اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں عمر ایوب خان اور شبلی فراز کی نااہلی کے خلاف دائر اپیلوں کو سماعت کے لیے مقرر کر لیا ہے۔
عدالتی فہرست کے مطابق، یہ اپیلیں 27 اکتوبر کو پانچ رکنی آئینی بینچ کے روبرو پیش ہوں گی، جس کی سربراہی جسٹس امین الدین خان کریں گے، جبکہ بینچ میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شکیل احمد شامل ہوں گے۔
عمر ایوب خان اور شبلی فراز نے 9 مئی کے واقعات سے متعلق مقدمات میں سزا کے بعد اپنی نااہلی کو چیلنج کیا ہے۔ قبل ازیں پشاور ہائی کورٹ نے دونوں رہنماؤں کی درخواستیں اس بنیاد پر ناقابلِ سماعت قرار دی تھیں کہ انہوں نے سرینڈر نہیں کیا تھا۔
اب سپریم کورٹ ان اپیلوں کی سماعت کرے گی اور اس دوران یہ طے کیا جائے گا کہ کیا دونوں رہنما اپنی نااہلی کے خلاف اپیل کے حق دار ہیں یا نہیں۔
یاد رہے کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان اور سینیٹر شبلی فراز کی نااہلی کا تعلق 9 مئی 2023 کے ان واقعات سے ہے جب چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے۔
ان مظاہروں کے دوران عسکری اور سرکاری تنصیبات پر حملوں کے الزامات کے تحت دونوں رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے۔ بعد ازاں انسدادِ دہشتگردی عدالتوں نے انہیں مختلف مقدمات میں سزا سنائی، جس کے نتیجے میں وہ عوامی عہدوں کے لیے نااہل قرار پائے۔
عمر ایوب اور شبلی فراز کی خالی نشستوں پر پی ٹی آئی انتخابات میں حصہ لے گی، بیرسٹر گوہر
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر علی خان نے اعلان کیا ہے کہ پارٹی رہنما عمر ایوب اور شبلی فراز کی نااہلی کے باعث خالی ہونے والی نشستوں پر پی ٹی آئی انتخابات میں حصہ لے گی۔
ایک بیان میں بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ عمر ایوب کی نشست پر ان کی اہلیہ الیکشن لڑیں گی، جو بانی پی ٹی آئی عمران خان کے فیصلے کے مطابق ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کی نااہلی کے خلاف سپریم کورٹ میں چار درخواستیں دائر کی جاچکی ہیں، تاہم اب تک ان پر سماعت مقرر نہیں کی گئی۔
بیرسٹر گوہر نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر 30 اکتوبر سے قبل سماعت نہ ہوئی تو یہ درخواستیں بے فائدہ ہو جائیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ عدالت سے بارہا درخواست کی گئی ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے کیس کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔
پی ٹی آئی چیئرمین کے مطابق شبلی فراز کی نشست پر الیکشن شیڈول 23 اکتوبر کو جاری ہوچکا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عدلیہ ناانصافی سے بچنے کے لیے بروقت کارروائی کرے گی تاکہ پارٹی کو انتخابی عمل میں منصفانہ موقع حاصل ہو۔





