ٹی ایل پی سیاسی جماعت نہیں، پابندی برقرار رہے گی، عظمیٰ بخاری

اسلام آباد: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر عائد پابندی کا فیصلہ کسی صورت واپس نہیں ہوگا اور ریاست کے فیصلے پر عمل درآمد ہوگا۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ٹی ایل پی سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک انتہا پسند گروپ ہے، اور ریاست نے اس کے خلاف جو فیصلہ کیا ہے وہ غیر مشروط ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ سیاسی جماعتوں کا کام امن و امان خراب کرنا نہیں ہوتا، اور کسی کو قتل کرنے کی اجازت دینا ہمارے مذہب میں منع ہے۔

انہوں نے ٹی ایل پی کے سابق رہنما سعد رضوی اور ان کے بھائی کی موجودگی کے حوالے سے کہا کہ وہ پنجاب میں نہیں ہیں اور ان کا ٹھکانہ معلوم ہے۔

عظمیٰ بخاری نے الزام عائد کیا کہ ٹی ایل پی تنظیم کی آڑ میں منی لانڈرنگ کرتی رہی ہے۔

عظمیٰ بخاری نے تحریک انصاف کی جانب سے 9 مئی کے جلاؤ گھیراؤ کے واقعے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس کے باوجود کسی اور جماعت پر پابندی لگانے کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہو رہی۔

وزیر اطلاعات نے اتحادی جماعتوں سے اختلافات کے حوالے سے کہا کہ صوبائی حکومت کی طرف سے فی الحال سیز فائر ہے، تاہم اگر پیپلزپارٹی کی قیادت اس حوالے سے نوٹس نہیں لیتی تو انہیں جواب دینا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں : ٹی ایل پی کے خلاف ریفرنس سپریم کورٹ میں پیش، پابندی کا حتمی فیصلہ عدالت کرے گی، شیرافضل

دوسری جانب نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ وفاقی حکومت کسی بھی پارٹی پر صرف دو صورتوں میں پابندی لگا سکتی ہے۔

شیرافضل مروت کے مطابق کسی بھی جماعت پر پابندی ملکی سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ کے تحت لگائی جا سکتی ہے اور کسی جماعت کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے لیے وفاقی حکومت کو شواہد پیش کرنے ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پابندی کے حوالے سے وفاقی کابینہ کا فیصلہ سپریم کورٹ کو بھیجا جائے گا اور کسی بھی جماعت کو کالعدم قرار دینے کا حتمی اختیار سپریم کورٹ کے پاس ہے۔

شیرافضل مروت نے کہا کہ سپریم کورٹ میں بھیجنے کے بعد 15 دن کے اندر ریفرنس پر فیصلہ دیا جاتا ہے، اور اگر سپریم کورٹ نے منظوری دی تو پابندی نافذ ہوگی۔

انہوں نے واضح کیا کہ آئین تمام شہریوں کو پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان نے کہا کہ سیاست اور جمہوریت میں تشدد کے لیے کوئی جگہ نہیں، ٹی ایل پی کی ہر سرگرمی پرتشدد ہے اور فنڈنگ کے ذرائع کو بھی دیکھا جائے گا۔

اختیار ولی خان نے مزید کہا کہ ٹی ایل پی نے جماعت کے نام کے پیچھے چھپی گندی سیاست کی ہے اور جو بھی اس راستے پر چلتا ہے، وہ سیاسی جماعت نہیں ہوگی۔

انہوں نے زور دیا کہ سیاستدانوں کے پاس ہتھیار نہیں ہوتے اور جو ہتھیار اٹھا کر چلیں، وہ سیاستدان نہیں کہلاتے۔

Scroll to Top