اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا دور حکومت بہت مختصر ہوگا اور وہ اپنے مقررہ کام مکمل کرنے سے قبل ہی اپنے عہدے سے فارغ ہو جائیں گے۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ نہ صرف سہیل آفریدی خود اپنی جگہ چھوڑیں گے بلکہ اس کے ساتھ پی ٹی آئی کے کئی رہنما بھی اپنے عہدوں سے دستبردار ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے حکومت کی جانب سے سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کو بنی گالا منتقل کرنے کی خبریں بھی مسترد کر دیں اور کہا کہ یہ محض قیاس آرائیاں ہیں۔
طلال چوہدری کے مطابق پی ٹی آئی اگر رسمی طور پر لکھ کر درخواست دے کہ وہ بنی گالا یا نتھیا گلی منتقل ہونا چاہتے ہیں تو پھر حکومت اس پر غور کرے گی۔
مزید برآں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے ریاست کے ساتھ دباؤ ڈالنے کی کوششیں محض ذاتی ڈیلز کے لیے کی جا رہی ہیں، جو ملک اور عوام کے مفاد میں نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : سہیل آفریدی کی عمران خان سے ملاقات ہو جائے تو کوئی قیامت نہیں آئے گی، گورنر پنجاب
دوسری جانب گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے کہا ہے کہ اگر سہیل آفریدی کی عمران خان سے ملاقات ہو جاتی ہے تو نہ ملک کو کوئی نقصان پہنچے گا اور نہ ہی کوئی قیامت آجائے گی۔
گورنر پنجاب نے کہا کہ سہیل آفریدی اگر اپنے پارٹی کے بانی سے ملاقات کرتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں انہیں اپنی جماعت کے بانی سے ملنے دینا چاہیے، ایسی ملاقات سے ملک کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔
سردار سلیم حیدر گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے، انہوں نے کہا کہ گورنر کنڈی کی مہمان نوازی پر ان کے شکرگزار ہیں۔
گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان تعلقات خوشگوار ہیں الیکشن کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان اتحاد بن گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ 18 ماہ کی حکومت پیپلز پارٹی کے لیے بھیانک خواب ثابت ہوئی لیکن اب ہم نظام کو بہتر انداز میں چلانے کے خواہاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے بلاول بھٹو کو یقین دہانی کرائی ہے کہ پیپلز پارٹی کے تحفظات دور کیے جائیں گے، دونوں جماعتوں کے درمیان باہمی احترام پر مبنی تعلقات قائم ہیں، ملک کی بہتری اسی میں ہے کہ موجودہ حکومت چلتی رہے۔
سردار سلیم حیدر نے کہا کہ اگر سسٹم ڈی ریل ہو گیا تو دوسرا کوئی آپشن نہیں ہوگا، ن لیگ سے اتحاد محبت کا نہیں بلکہ مجبوری کا ہے، الیکشن کے بعد حکومت بنانے کے لیے دونوں جماعتوں کو ملنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ عوام اب بھی مشکلات کا شکار ہیں، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ انہیں مشکلات سے نکالے، امید ہے کہ آئندہ دنوں میں معاملات بہتر ہوں گے۔
گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ پنجاب کو بڑے بھائی کا کردار ادا کرنا چاہیے اور وہ ملک کی بہتری کے لیے اپنا نقصان برداشت کرنے کو بھی تیار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے کارکن ایک دوسرے کو قبول کرنے کو تیار نہیں لیکن سیاسی مجبوریوں کے باعث حکومت میں بیٹھنا پڑا جس سے پیپلز پارٹی کو نقصان ہوا۔





