اسلام آباد: وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے انکشاف کیا ہے کہ کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو دراصل مسلم لیگ (ن) کے ووٹ بینک کو کمزور کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ 2018 کے عام انتخابات میں ٹی ایل پی نے مسلم لیگ (ن) کے ووٹ تقسیم کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پارٹی کو کئی نشستوں پر نقصان اٹھانا پڑا۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ٹی ایل پی دراصل مسلم لیگ (ن) کا ووٹ بینک چرانے کے لیے بنائی گئی تھی،تاہم اب یہ جماعت اپنی تخلیق کرنے والوں کے لیے بھی دردِ سر بن چکی ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی کابینہ نے گزشتہ روز تحریک لبیک پر پابندی عائد کرنے کی منظوری دی تھی، جس کے بعد وزارتِ داخلہ نے آج باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت کے پاس ایسی معقول بنیادیں موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تنظیم دہشت گردانہ سرگرمیوں سے منسلک ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹی ایل پی کے حالیہ ملک گیر احتجاج کے دوران متعدد پولیس اہلکار اور مظاہرین جاں بحق ہوئے، جبکہ کراچی سے اسلام آباد تک اہم شاہراہیں بند ہوگئیں جس سے معمولاتِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ کوئی بھی جماعت جو تشدد یا دہشت گردی کے راستے پر چلے، وہ چاہے مذہبی ہو یا سیاسی، انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) کی شق 11-بی کے تحت پابندی کی مستحق ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹی ایل پی کی جانب سے ماضی میں کی گئی یقین دہانیاں جھوٹ ثابت ہوئیں، اس لیے اب کسی نئی یقین دہانی پر اعتبار ممکن نہیں۔
وزیر اعظم کے مشیر نے وضاحت کی کہ ٹی ایل پی پر عائد پابندی کا فیصلہ سیاسی نہیں بلکہ سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر کیا گیا ہے، اور اب جماعت کے پاس ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے لیے 30 روز کا وقت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پابندی کے بعد بھی ٹی ایل پی پر عائد قدغن جائزے اور اپیل کے عمل کے دوران برقرار رہے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ایک جماعت پر پابندی عائد کر دی جائے اور اس کے دفاتر و اثاثے منجمد کر دیے جائیں تو وہ سیاسی سرگرمیاں کیسے جاری رکھ سکتی ہے؟
یہ بھی پڑھیں : ٹی ایل پی سیاسی جماعت نہیں، پابندی برقرار رہے گی، عظمیٰ بخاری
رانا ثنا اللہ نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ کسی جماعت کی تحلیل یا بحالی کا حتمی فیصلہ سپریم کورٹ کرے گی۔ آئین کے آرٹیکل 17(2) کے تحت حکومت پابندی کے اعلان کے 15 دن کے اندر اندر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی پابند ہے۔
سیاسی ماہرین کے مطابق 2018 کے عام انتخابات میں ٹی ایل پی نے 22 لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کیے تھے، جن میں سے زیادہ تر پنجاب اور کراچی سے تھے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اسی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کم از کم 15 قومی اسمبلی کی نشستوں سے محروم ہوگئی تھی۔
تحریک لبیک پاکستان 2015 میں ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد وجود میں آئی تھی، جس کے بعد یہ جماعت بتدریج ملک کی بڑی مذہبی سیاسی قوتوں میں شامل ہو گئی۔





