اسلام آباد: وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات طالبان کی ہٹ دھرمی کے باعث کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔
ان کے مطابق جب بھی فریقین معاہدے کے قریب ہوتے ہیں تو کابل کی جانب سے کوئی نہ کوئی تعطل پیدا کر دیا جاتا ہے۔
ایک انٹرویو میں خواجہ آصف نے انکشاف کیا کہ بھارت کابل حکومت کے ذریعے اپنی ماضی کی ہزیمت کا ازالہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اسلام آباد کی طرف اٹھنے والی آنکھیں نکال دیں گے۔
وزیرِ دفاع نے کہا کہ طالبان حکومت کو پورے افغانستان پر کنٹرول حاصل نہیں، اسی لیے مذاکرات کا مکمل اختیار کابل حکومت کے پاس نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قطر اور ترکیہ اس حوالے سے پاکستان کے مؤقف کے قریب تر ہیں، اور انہیں مذاکرات کی پہلی نشست ہی سے اندازہ ہو گیا تھا کہ پیش رفت ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پی ایس ایل 11: پشاور میں میچز کے امکان پر سی ای او کا اہم بیان سامنے آ گیا
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ کابل میں فی الحال صرف ایک گروہ کی حکومت ہے، جس پر مکمل اعتبار ممکن نہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ مذاکرات دوحہ (قطر) اور استنبول (ترکیہ) میں منعقد ہوئے تھے، تاہم یہ بات چیت کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی۔





