اعجاز آفریدی
پشاور: خیبر پختونخوا کی لوکل کونسلز ایسوسی ایشن نے وزیر اعلی محمد سہیل آفریدی سے ملاقات کی باضابطہ درخواست کی ہے تاکہ بلدیاتی اداروں کو درپیش اختیارات اور فنڈز کی بندش سمیت دیگر سنگین مسائل پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
میئر مردان و صدر ایسوسی ایشن حمایت اللہ مایارکی جانب سے ارسال کردہ خط میں کہا گیا ہے کہ 4 کروڑ 50 لاکھ آبادی کی نمائندگی کرنے والے منتخب بلدیاتی نمائندے شفاف اور آئینی عمل کے ذریعے منتخب ہوئے، لیکن انتخابات کے بعد سے ہی انہیں ان کے آئینی اختیارات، فنڈز اور کاموں سے محروم رکھا گیا ہے۔
خط میں آئین کے آرٹیکل اے 140 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہر صوبے پر لازم ہے کہ وہ بلدیاتی حکومت کا قیام کرے اور منتخب نمائندوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتقل کرے۔ تاہم خیبر پختونخوا میں اس پر عملدرآمد نہیں ہو رہا جس سے گورننس کا نظام متاثر ہو رہا ہے۔
خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ بلدیاتی اداروں کے اختیارات سلب ہونے سے عوام کو بنیادی بلدیاتی سہولیات، مقامی ترقی اور شفاف نظام سے محروم کیا جا رہا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 37 کے تحت ریاست کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں عوامی نمائندوں کے ذریعے ادا کرے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا کے عوام کے لیے نئے قوانین لا رہے ہیں، امن و گڈ گورننس ہماری ترجیح ہے،وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت جلد ایسے نئے قوانین متعارف کرانے جا رہی ہے جو خالصتاً عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہوں گے۔
میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت کی پہلی ترجیح صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا ہے، جس کے بعد گڈ گورننس کے فروغ کے لیے ایک جامع پلان تیار کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس پلان کا اعلان جلد کیا جائے گا، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کی رفتار میں بھی نمایاں تیزی لائی جائے گی۔





