پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا امکان، اوگرا نے سمری تیار کرلی

اسلام آباد: پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جس کے لیے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے سمری تیار کر لی ہے۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال کے باعث نومبر کے پہلے پندرہ روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا امکان ہے۔

زرائع کے مطابق وگرا کی تیار کردہ سمری 31 اکتوبر کو وزیرِ خزانہ کو ارسال کی جائے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف کی حتمی منظوری کے بعد وزیرِ خزانہ یکم نومبر سے 15 نومبر تک کے لیے نئی قیمتوں کا اعلان کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں : پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کے بحران کا خدشہ عارضی طور پر ٹل گیا

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کے ممکنہ بحران کا خطرہ عارضی طور پر ٹل گیا ہے کیونکہ سندھ حکومت نے پٹرولیم سپلائی کو برقرار رکھنے کے لیے پی ایس او کو 15 دن کے لیے بغیر بینک گارنٹی کے تیل کلیئر کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

سندھ حکومت نے پی ایس او کے ایک جہاز کو پرانے طریقہ کار یعنی انڈرٹیکنگ کے ذریعے کلیئر کرنے کی منظوری دے دی ہے، جبکہ دیگر آئل کمپنیز کے جہاز بھی آئندہ 15 دن تک بغیر بینک گارنٹی کے کلیئر ہونے کی توقع ہے، جس سے فوری سپلائی چین بحال ہوگی۔

آئل مارکیٹنگ کمپنیز کا کہنا ہے کہ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور بینک گارنٹی کی شرط کے باعث کمپنیوں کے کیش فلو پر منفی اثر پڑ رہا تھا۔ اس سیس کے باعث عوام پر فی لیٹر تقریباً تین روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ اس حوالے سے آئل کمپنیز نے وفاق اور سندھ حکومت کو خطوط بھی ارسال کیے تھے۔

 سندھ ایکسائز ڈپارٹمنٹ نے کمپنیز کو ایک نیا خط بھیجا ہے جس میں انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انڈرٹیکنگ کے بجائے مطلوبہ بینک گارنٹی جمع کرائیں تب ہی ان کے آئل کارگوز کو ریلیز کیا جائے گا۔ اگر بینک گارنٹی جمع نہ کرائی گئی تو ایندھن کی فراہمی میں ممکنہ تعطل کی ذمہ داری متعلقہ کمپنیوں پر ہوگی۔

اس فیصلے کے بعد آئندہ 15 دنوں کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی میں استحکام کی توقع ہے لیکن آئندہ لائحہ عمل کے حوالے سے صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

Scroll to Top