وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کررہے، وزیرمملکت برائے قانون وانصاف

اسلام آباد: وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے اور اپنے حلف کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ہٹ دھرمی کی مثال قائم کی ہے، انہیں عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ دینی چاہیے لیکن وہ جیل میں موجود ایک شخص کے عشق میں مبتلا ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی عدالتی فیصلوں کے تحت جیل میں قید ہیں اور متعدد مقدمات میں سزا یافتہ ہیں۔

بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی اولین ذمہ داری صوبے کے عوام کی خدمت ہےمگر وہ اپنے حلف سے انحراف کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے لیکن حکومت عوام کو لاوارث چھوڑ چکی ہے۔

ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ جیل قوانین کے مطابق صرف قیدی کے اہلِ خانہ اور وکلا ہی ملاقات کر سکتے ہیں۔ اگر صوبائی کابینہ کی تشکیل میں مزید تاخیر ہوئی تو آئین کے آرٹیکل 234 کا اطلاق ممکن ہے۔

واضح رہے کہ خیبر پختونخوا کے نومنتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بانی پی ٹی آئی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے لیے متعدد بار کوشش کر چکے ہیں۔

عدالتی حکم کے باوجود ملاقات نہ ہونے پر وزیراعلیٰ نے جیل انتظامیہ کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ کو خط لکھا ہےجس میں عدالتی حکمنامے کی تصدیق شدہ نقل فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

Scroll to Top