خیبرپختونخوا اسمبلی اسپیشل پارلیمانی سیکیورٹی کمیٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

شاہد جان

پشاور: خیبرپختونخوا اسمبلی کی اسپیشل پارلیمانی سیکیورٹی کمیٹی کا اجلاس اسپیکر کے زیر صدارت منعقد ہوا جس میں اپوزیشن اور حکومتی اراکین نے سیکیورٹی سے متعلق امور پر کھل کر تبادلہ خیال کیا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں کمیٹی کے اراکین سے ٹی او آرز (Terms of Reference) کے لیے تجاویز طلب کی گئیں۔

ذرائع کے مطابق اپوزیشن نے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کو اجلاس میں بلانے کی درخواست کی تاکہ ان سے یقین دہانی لی جا سکے۔ آخرکار وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اجلاس میں شریک ہوئے اور اپوزیشن کو یقین دہانی کرائی کہ وہ کمیٹی کی تجاویز کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور ان پر مکمل عملدرآمد کریں گے۔

اپوزیشن اراکین نے کہا کہ حکومت واضح کرے کہ وہ کیا کرنا چاہتی ہے اور کہاں تک جا سکتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے جواب دیا کہ امن و امان کے قیام کے لیے تجاویز دیں، کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں اپوزیشن اور حکومتی اراکین نے ٹی او آرز کو مشترکہ طور پر تیار کرنے پر اتفاق کیا۔ اسمبلی میں تمام جماعتوں کی قیادت اور عمائدین کے ساتھ جرگہ بلا کر تجاویز کی روشنی میں ٹی او آرز مرتب کیے جائیں گے۔ اس سے قبل آئی جی سے بریفنگ لی جائے گی اور بریفنگ کی بنیاد پر حتمی ٹی او آرز تیار کیے جائیں گے۔

اپوزیشن ممبران نے کہا کہ تیار شدہ ٹی او آرز کو حکومت نافذ کرے گی اور ہر پارٹی کی مرکزی قیادت سے گرین سگنل ملنے پر اگلے مرحلے میں پارٹی قیادت کے ساتھ اجلاس منعقد ہوگا۔ قبائلی اضلاع زیادہ متاثرہ ہونے کے باعث وہاں کے نمائندوں کو زیادہ شامل کرنے کی ضرورت ہے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس کے آخر میں فیصلہ کیا گیا کہ معصوم شہریوں کی جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لیے صوبے کے دیگر اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ بھی لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔

Scroll to Top