سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کے خلاف اینٹی کرپشن میں مقدمہ درج

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اینٹی کرپشن سرکل نے سابق چئیرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) شبر زیدی کے خلاف غیر مجاز طور پر 16 ارب روپے سے زائد انکم ٹیکس ریفنڈ دینے کے الزام میں مقدمہ درج کر دیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق ریفنڈ حاصل کرنے والی فہرست میں تین بینک، دو سیمنٹ ساز کمپنیاں اور ایک کیمیکل کمپنی شامل ہیں، جو شبر زیدی کے بطور چئیرمین ایف بی آر تعیناتی سے قبل ان کی فرم کے کلائنٹس تھے۔

مقدمے میں بتایا گیا ہے کہ سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے اہلکاروں کی ملی بھگت سے غیر مجاز ادائیگیاں مئی 2019 سے جنوری 2020 کے دوران کیں۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستانی طلبہ کو مصنوعی ذہانت کی تربیت کے لیے سعودی عرب بھیجا جائے گا،وزیراعظم شہبازشریف

ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کی جانب سے 29 اکتوبر کو درج ایف آئی آر میں شبر زیدی، ایف بی آر کے اہلکار اور بینک انتظامیہ کو نامزد کیا گیا ہے۔

درج کردہ انکوائری نمبر 91/2025 کے مطابق مصدقہ ذرائع کی رپورٹ کی بنیاد پر یہ معلوم ہوا کہ شبر زیدی کے دور میں 16 ارب روپے کی خطیر رقم غیر قانونی طور پر مختلف کمپنیوں کو دی گئی، جو ان کے چیئرمین بننے سے پہلے ان کے کلائنٹس تھیں۔

یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا کے عوام کے لیے نئے قوانین لا رہے ہیں، امن و گڈ گورننس ہماری ترجیح ہے،وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

ایف آئی آر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شبر زیدی 10 مئی 2019 سے 6 جنوری 2020 تک بطور چیئرمین ایف بی آر تعینات رہے۔ ان اقدامات کو انسداد بدعنوانی ایکٹ 1947 اور پاکستان پینل کوڈ کے تحت قابل سزا جرائم قرار دیا گیا ہے اور مجاز اتھارٹی کے حکم پر سابق چیئرمین کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں : مشال یوسفزئی اور سلمان اکرم راجہ میں لفظی تکرار، ایک دوسرے پر الزامات

Scroll to Top