چوروں کی طرح داخل ہونے والے پناہ گزین نہیں، دہشت گرد ہیں، خواجہ آصف

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان وفد کے اس دعوے کو مضحکہ خیز اور غیر منطقی قرار دیا ہے کہ ٹی ٹی پی کے دہشت گرد افغان سرزمین پر پاکستانی پناہ گزین ہیں جو اپنے گھروں کو واپس جا رہے ہیں۔

خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں سوال اٹھایا کہ یہ کیسے پناہ گزین ہیں جو انتہائی تباہ کن اسلحے سے مسلح ہو کر پہاڑوں کے دشوار گزار راستوں سے پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں، اور یہ سڑکوں یا گاڑیوں کے ذریعے نہیں ہو رہا۔

انہوں نے کہا کہ افغان وفد کی یہ تاویل ان کی نیت کے فتور اور خلوص سے عاری رویے کا ثبوت ہے۔

وزیر دفاع نے واضح کیا کہ اگر افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال ہوئی تو پاکستان بھرپور جواب دے گا۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ امن اور سکون کے لیے کوشش کی، لیکن کابل نے تصادم کا راستہ اپنایا تو پاکستان کو بھی جواب دینا پڑے گا۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی سرزمین پر کسی بھی دہشت گرد کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں : افغان طالبان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے، عطا تارڑ

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان استنبول مذاکرات کے مشترکہ اعلامیے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو اب ایک نیا فورم میسر ہوگا جہاں دہشت گردی کے ثبوت پیش کیے جا سکیں گے۔

عطا تارڑ نے بتایا کہ قطر اور ترکی کی ثالثی میں مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے ہیں اور دوست ممالک پاکستان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کو یہ بات تسلیم کرنا پڑی کہ دہشت گرد کارروائیاں بند ہوں گی اور اب ہمیں امید ہے کہ پاکستان کے خلاف مزید دہشت گردانہ کارروائیاں نہیں ہوں گی۔

وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے والے فریق کے خلاف سزا کا تعین کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی میں افغان طالبان کی جانب سے فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائیاں بھی شامل ہیں اور افغان طالبان کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔

پاک افغان سرحدوں کے حوالے سے عطا تارڑ نے کہا کہ سرحدیں کھولنے کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔

Scroll to Top