سابق وزیرِ اعظم کو ملاقات کے حق سے محروم رکھنا آئین کی خلاف ورزی ہے، اسد قیصر

صوابی : سابق سپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما اسد قیصر نے کہا ہےکہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ قانون کی حکمرانی کا فقدان ہے۔26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ ایکزیکٹو کے زیر اثر آ گئی ہے۔

جوڈیشل کمپلیکس میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئےتحریک تحفظ آئین پاکستان کا مقصد آئین اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہے۔

اسد قیصر نے کہا کہ اراکین اسمبلی کے ضمیروں کا سودا کیا گیا، ایک ووٹ کی قیمت ستر کروڑ سے ایک ارب روپے تک رکھی گئی اور جو اراکین نہ جھکے ان کے اہلِ خانہ کو ہراساں کیا گیا۔

انہوں نے خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ کے اپنے قائد سے ملاقات نہ کر پانے اور سابق وزیرِ اعظم کو ملاقات کے حق سے محروم رکھنے کو آئین کی خلاف ورزی قرار دیا۔

اسد قیصر نے صوابی بار کونسل کے لیے پچاس لاکھ روپے کی گرانٹ دینے کا بھی اعلان کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر عاقب اللہ خان بھی تقریب میں موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں : نومبر میں احتجاج ہوگا یا نہیں؟ اسد قیصر نے پارٹی کی پالیسی واضح کر دی

پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ نومبر میں احتجاج کے حوالے سے کوئی تجویز زیر غور نہیں لیکن بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے بھر پور مزاحمت کریں گے۔

اسد قیصر نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے بانی کی رہائی کے امکانات بہت زیادہ ہیں اور اگر ان کے خلاف کیسز میرٹ پر چلیں تو وہ جیل میں زیادہ دن نہیں رہیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کئی مقدمات میں بانی پی ٹی آئی کی ضمانتیں پہلے ہی منظور ہو چکی ہیں اور قانونی طور پر انہیں مزید جیل میں رکھنے کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔

اسد قیصر نے طارق فضل چودھری کے حالیہ بیان پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کتنی سنجیدگی ہے واضح نہیں اور بانی کی بنی گالہ منتقلی کے معاملے پر پارٹی مشاورت کرے گی۔

اسد قیصر نے کہا کہ بانی چیئرمین کی بنی گالہ منتقلی کے لیے درخواست دینا ضروری نہیں بلکہ یہ حکومت کے اختیار میں ہے۔

انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اس وقت پارٹی کا اسٹیبلشمنٹ سے کوئی رابطہ نہیں ہے اور خیبر پختونخوا میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی کے سلسلے میں تمام پارٹیوں سے بات چیت ہوئی۔

اسد قیصر نے کہا کہ کے پی میں پارٹی کے ایم پی اے مضبوطی سے کھڑے ہیں اور پوری پی ٹی آئی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ساتھ مکمل حمایت کر رہی ہے۔

پی ٹی آئی رہنما نے توقع ظاہر کی کہ سہیل آفریدی عوام میں تحریک پیدا کرنے میں کامیاب ہوں گے اور پارٹی نئے انداز سے متحرک ہو گی۔

نومبر میں احتجاج کے حوالے سے انہوں نے وضاحت کی کہ اس وقت اس پر کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے اور بانی نے تحریک کی قیادت محمود اچکزئی کو سونپ دی ہے۔

اسد قیصر نے کہا کہ پارٹی جلسوں کے ذریعے عوام کو سرگرم رکھے گی، بانی پی ٹی آئی کی آواز بلند کریں گے اور بھرپور مزاحمت کریں گے۔

اسد قیصر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی واحد جماعت ہے جو نچلی سطح تک موجود ہے، لہذا حکومت کو چاہیے کہ ایک برابر کے مواقع فراہم کرے اور بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں۔

Scroll to Top