شاکرخان
میرانشاہ: ڈپٹی کمشنر محمد یوسف کریم کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ شمالی وزیرستان نے صحت عامہ کے تحفظ کے لیے میرانشاہ بازار میں ایک اہم کارروائی کی ہے۔
ضلعی انتظامیہ کی ٹیم نے تحصیلدار میرانشاہ غنی وزیر کے ہمراہ ایک نجی کلینک پر چھاپہ مار کر لاکھوں روپے مالیت کی جعلی ادویات برآمد کیں اور انہیں سرکاری تحویل میں لے لیا۔
ذرائع کے مطابق، یہ وہی کلینک ہے جہاں 18 ستمبر 2025 کو ایک شخص کو گرفتار کیا گیا تھا جو بغیر کسی رجسٹریشن اور مطلوبہ اسناد کے غیر قانونی طور پر طب کا پیشہ کر رہا تھا۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق، کچھ عرصہ قبل گرفتار ہونے والا ملزم ایک سرکاری سکول کا ٹیچر تھا جو اپنے اصل پیشے کے بجائے ڈاکٹر بن کر مریضوں کی چیک اپ کرتا اور انہیں جعلی ادویات فراہم کرتا رہا۔
گرفتار جعلی ڈاکٹر کو مزید قانونی کارروائی کے لیے میرانشاہ پولیس کے حوالے کیا گیا تھا، تاہم چند دن بعد دوبارہ اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے رہا کر دیا گیا۔
ضلعی انتظامیہ شمالی وزیرستان نے کہا ہے کہ عوام کی صحت کے ساتھ کھیلنے والوں کے خلاف اپنی زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل جاری رکھنے کا عزم رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : شمالی وزیرستان، ڈی پی او کے اسکواڈ پر حملہ، 5 اہلکار زخمی
شمالی وزیرستان میں ڈی پی او کے پولیس اسکواڈ پر حملے کے نتیجے میں 5 اہلکار زخمی ہو گئے۔ پولیس حکام کے مطابق یہ حملہ بنوں میران شاہ روڈ پر ممش خیل کے علاقے میں کیا گیا۔
پولیس کے مطابق ڈی پی او وقار احمد حملے کے وقت محفوظ رہے، تاہم اسکواڈ کے پانچ اہلکار زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں مزید سیکورٹی نفری بھی روانہ کر دی گئی ہیں تاکہ صورتحال کو کنٹرول میں رکھا جا سکے اور حملہ آوروں کی تلاش کی جا سکے۔ پولیس نے اس حملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ممکنہ ملزمان کی نشاندہی کے لیے علاقے میں سرچ آپریشنز جاری ہیں۔
یہ واقعہ شمالی وزیرستان میں امن و امان کی صورتحال پر ایک لمحہ فکریہ ہے، اور حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام کو دیں۔





