الف خان
ڈپٹی کمشنر چارسدہ ڈاکٹر عظمت اللہ وزیر کی زیرِ نگرانی “گداگروں سے پاک چارسدہ مہم” کے تحت آج ایک مؤثر آپریشن کیا گیا۔
ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر (I) چارسدہ نے ڈی ایس پی سٹی، چائلڈ پروٹیکشن آفیسر پر مشتمل خصوصی ٹیم کے ہمراہ شہر کے مختلف کاروباری علاقوں میں کارروائی کی۔
آپریشن کے دوران 44 پیشہ ور گداگر تحویل میں لیے گئے جن میں 12 مرد، 13 خواتین اور 19 بچے شامل ہیں۔
انتظامیہ کے مطابق یہ کارروائی عوامی فلاح و بہبود، معاشرتی نظم و ضبط اور سماجی برائیوں کے خاتمے کے لیے کی گئی ہے۔
حکام نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ چارسدہ کو گداگری سے مکمل طور پر پاک کرنے تک یہ مہم تسلسل کے ساتھ جاری رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں : ضلعی انتظامیہ شمالی وزیرستان کی کارروائی ،پرائیویٹ کلینک سے جعلی ادویات برآمد
ڈپٹی کمشنر محمد یوسف کریم کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ شمالی وزیرستان نے صحت عامہ کے تحفظ کے لیے میرانشاہ بازار میں ایک اہم کارروائی کی ہے۔
ضلعی انتظامیہ کی ٹیم نے تحصیلدار میرانشاہ غنی وزیر کے ہمراہ ایک نجی کلینک پر چھاپہ مار کر لاکھوں روپے مالیت کی جعلی ادویات برآمد کیں اور انہیں سرکاری تحویل میں لے لیا۔
ذرائع کے مطابق، یہ وہی کلینک ہے جہاں 18 ستمبر 2025 کو ایک شخص کو گرفتار کیا گیا تھا جو بغیر کسی رجسٹریشن اور مطلوبہ اسناد کے غیر قانونی طور پر طب کا پیشہ کر رہا تھا۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق، کچھ عرصہ قبل گرفتار ہونے والا ملزم ایک سرکاری سکول کا ٹیچر تھا جو اپنے اصل پیشے کے بجائے ڈاکٹر بن کر مریضوں کی چیک اپ کرتا اور انہیں جعلی ادویات فراہم کرتا رہا۔
گرفتار جعلی ڈاکٹر کو مزید قانونی کارروائی کے لیے میرانشاہ پولیس کے حوالے کیا گیا تھا، تاہم چند دن بعد دوبارہ اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے رہا کر دیا گیا۔
ضلعی انتظامیہ شمالی وزیرستان نے کہا ہے کہ عوام کی صحت کے ساتھ کھیلنے والوں کے خلاف اپنی زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل جاری رکھنے کا عزم رکھتی ہے۔





