مصروف طرزِ زندگی میں متوازن اور صحت بخش غذا کا انتخاب آسان نہیں ہوتا۔ اکثر لوگ دن بھر مناسب کھانا نہیں کھا پاتے یا رات کو زیادہ کھانا کھانے کے عادی ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق صرف یہ نہیں کہ کیا کھایا جا رہا ہے، بلکہ کھانے کا وقت بھی صحت پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ تحقیقی مطالعات سے پتا چلتا ہے کہ کھانے کے اوقات جسمانی وزن میں کمی اور مختلف بیماریوں سے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انسانی جسم کی اندرونی حیاتیاتی گھڑی (بایولوجیکل کلاک) ہمارے میٹابولزم، نیند، جسمانی درجہ حرارت اور ذہنی کارکردگی کو منظم رکھتی ہے۔
اگر کھانے کے اوقات اس قدرتی نظام کے مطابق رکھے جائیں تو یہ بلڈ پریشر میں کمی، جسمانی وزن میں توازن اور مجموعی صحت میں بہتری کا باعث بنتے ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کھانے کے درمیان محدود وقفہ رکھنا زیادہ فائدہ مند ہے۔
مثلاً اگر کوئی شخص صبح 9 بجے ناشتہ اور رات 10 بجے کھانا کھاتا ہے تو اسے بہتر نتائج کے لیے یہ وقفہ 10 سے 11 گھنٹے تک لانا چاہیے۔
یہ طریقہ موٹاپے یا ذیابیطس کے شکار افراد کے لیے خاص طور پر مفید ہے۔
یہ طریقہ کار “انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ” سے مختلف ہے کیونکہ اس میں وقفہ بہت زیادہ طویل نہیں ہوتا بلکہ جسم کو قدرتی گھڑی کے مطابق چلنے میں مدد دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق رات گئے کھانا کھانے سے میٹابولزم متاثر ہوتا ہے کیونکہ جسم اس وقت آرام کی حالت میں ہوتا ہے۔
رات کے اوقات میں جسمانی سرگرمیاں کم ہونے سے بلڈ گلوکوز کی سطح بڑھ جاتی ہے اور وقت کے ساتھ یہ عادت ذیابیطس یا موٹاپے کا باعث بن سکتی ہے۔
رات میں جلد کھانا کھانے سے نہ صرف شوگر کی سطح متوازن رہتی ہے بلکہ نیند کا معیار بھی بہتر ہوتا ہے۔
اگر رات گئے کھانا کھانے سے گریز ممکن نہ ہو تو کوشش کریں کہ یہ عادت مستقل نہ بنے۔
عام طور پر صبح جاگنے کے ایک گھنٹے کے اندر ناشتہ، دوپہر کا کھانا معتدل وقت پر اور رات کا کھانا سونے سے کم از کم دو گھنٹے پہلے کھانا صحت کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : چارسدہ میں گداگروں کے خلاف مہم،44گرفتار
نوٹ: یہ تحریر مختلف طبی تحقیقات پر مبنی ہے۔ کسی بھی عملی تبدیلی سے قبل اپنے معالج یا غذائی ماہر سے ضرور مشورہ کریں۔





