متحدہ عرب امارات کے سالانہ حکومتی اجلاس میں دبئی کے ولی عہد، شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم نے متعدد اہم اور جدید منصوبوں کی منظوری دی۔
عرب میڈیا کے مطابق ان منصوبوں کا مقصد دبئی کو دنیا کے سب سے خوشحال، رہائش کے لیے موزوں اور صحت مند شہروں میں شامل کرنا ہے۔
ولی عہد کے مطابق یہ اقدامات 15 ہزار نئے روزگار کے مواقع پیدا کریں گے اور جدید مگر سستے نجی اسکولز کے قیام کو بھی فروغ دیں گے۔
منظور شدہ منصوبوں میں عوامی پارکس، ایوی ایشن ٹیلنٹ پروگرام، مالیاتی دیوالیہ پن عدالت کا قیام اور کینسر کی ابتدائی تشخیص کے نظام جیسے اقدامات شامل ہیں۔
یہ اقدامات دبئی کی معیشت کو دوگنا کرنے اور نجی شعبے میں 65 ہزار اماراتی شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے مقصد کا حصہ ہیں۔
دبئی اسپورٹس کونسل کی جانب سے پیش کردہ “اسپورٹس سیکٹر اسٹریٹجک پلان 2033” کو بھی منظور کیا گیا، جس کا مقصد دبئی کو عالمی سطح پر کھیلوں کا مرکز بنانا ہے۔
یہ منصوبہ 19 پروگراموں اور 75 اقدامات پر مشتمل ہے، جو 17 اہم کھیلوں پر توجہ مرکوز کرے گا، خاص طور پر نوجوانوں اور خصوصی افراد کے لیے۔
ایگزیکٹیو کونسل نے “فنانشل ریسٹرکچرنگ اینڈ انسولونسی کورٹ” کے قیام کی بھی منظوری دی، جو کاروباری اداروں کی قرضوں کی ادائیگی، مالی تنظیم نو، اور اثاثہ جات کے تحفظ میں مدد فراہم کرے گا۔
ولی عہد نے کہا کہ یہ تمام منصوبے دبئی کے وژن کا حصہ ہیں، جس کے تحت ہر شہری کو خوشحال، صحت مند اور پرامن زندگی کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : دبئی میں دنیا کا تیسرا تیرتا ہوا میوزیم بنے گا
متحدہ عرب امارات میں ایک اور شاندار ثقافتی منصوبے کا آغاز ہونے جا رہا ہے، دنیا کا تیسرا تیرتا ہوا میوزیم آف آرٹ دبئی میں تعمیر کیا جائے گا۔
متحدہ عرب امارات میں تعمیر ہونے والے اس منصوبے کو ’دُما‘ دبئی میوزیم آف آرٹ کا نام دیا گیا ہے جو دبئی کریک پر قائم کیا جائے گا۔
دنیا کا پہلا تیرتا ہوا میوزیم 2019 میں پیرس میں بنایا گیا تھا جبکہ دوسرا میوزیم رواں سال جنوبی کوریا میں تعمیر کے مراحل میں ہے، دبئی کا یہ منصوبہ اس سلسلے کی تیسری اور سب سے جدید مثال ہوگا۔
یہ منصوبہ الفطیم گروپ کے تعاون سے تیار کیا جا رہا ہے جو نہ صرف دبئی کا ایک نیا معمارانہ شاہکار ثابت ہوگا بلکہ شہر کے ثقافتی منظرنامے میں ایک نمایاں اضافہ بھی کرے گا۔





