وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے عوامی نیشنل پارٹی(اے این پی) کے مرکزی رہنما شہید مولانا خان زیب کی شہادت اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعے کی تحقیقات کےلیے اعلیٰ سطحی کمیشن کے قیام کا فیصلہ کر لیا ہے۔
وزیراعظم ہاؤس سے جاری سرکاری اعلامیہ کے مطابق، وزیراعظم نے وزارت قانون کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس مقصد کے لیے سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دے تاکہ واقعے کی غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات ممکن ہو سکیں۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ کمیشن واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گا اور ذمہ داروں کا تعین کر کے اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کرے گا۔
عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان نے وزیراعظم کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ شہید مولانا خان زیب کے خاندان اور قوم کے ساتھ کیا گیا وعدہ آج حقیقت بن گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں ان تمام لوگوں کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے اس مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا، حوصلہ بڑھایا اور مدد فراہم کی۔
ایمل ولی خان نے توقع ظاہر کی کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے مقرر کردہ کمیشن شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کرے گا، تاکہ مولانا خان زیب شہید کے قتل کے اصل محرکات اور ذمہ داران قوم کے سامنے بے نقاب ہوں۔
یہ بھی پڑھیں : باجوڑ میں سویلین آبادی نشانہ بنانےپر حکومتی خاموشی افسوسناک ہے،نثار باز
ان کا مزيد کہنا تھا کہ یہ اقدام انصاف کی بالادستی اور دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے متاثرہ خاندانوں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔ عوامی نیشنل پارٹی ہر فورم پر انصاف کے حصول کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی، اور شہید مولانا خان زیب کے قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔





