اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم میں 18ویں ترمیم کے کسی پہلو کو تبدیل نہیں کیا جا رہا، اور مجسٹریسی نظام کو دوبارہ نافذ کیا جا رہا ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ ملک بھر میں تعلیم اور آبادی کے حوالے سے ایک جامع پالیسی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے مختلف تجاویز زیرِ غور ہیں، جن میں چوہدری شجاعت کی سابقہ تجویز بھی شامل ہے کہ تعلیم کا معاملہ وفاق کے پاس رہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پارلیمنٹ میں ہر تجویز پر تفصیلی بات چیت ہوگی اور تمام معاملات کو زیر بحث لایا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ آئین وقت اور حالات کے مطابق ترمیم کے لیے کھلا ہے اور آئینی عدالت کے معاملات طویل عرصے سے زیر بحث ہیں۔ عطا تارڑ نے مزید کہا کہ 27ویں ترمیم میں 18ویں ترمیم کے بنیادی نکات برقرار ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مجسٹریسی نظام نیا نہیں بلکہ ملک میں پہلے بھی رائج رہا ہے، اور اب اسے دوبارہ بحال کیا جا رہا ہے۔
کابینہ کے اجلاس روٹین کے مطابق ہر ہفتے منعقد ہوتے ہیں، اور پیپلزپارٹی کی سی ای سی کے بعد اس معاملے کو کابینہ میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : آئین کے آرٹیکل 243 میں مجوزہ ترمیم کی حمایت کرتے ہیں، بلاول بھٹو زرداری کا اعلان
عطا تارڑ نے بلدیاتی نظام کے حوالے سے کہا کہ ایم کیو ایم کے پرانے مطالبات پر بھی بعض معاملات پر سالوں اور کچھ پر مہینوں سے بحث جاری ہے۔
انہوں نے پی ٹی آئی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ پارٹی 27ویں آئینی ترمیم کو منفی رنگ دے رہی ہے، جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا رویہ انتہائی غیر سنجیدہ ہے اور وہ متنازع بیانات کے ذریعے شہرت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
عطا تارڑ نے افغانستان کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاک افغان مذاکرات سے مثبت نتائج کی توقع ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی نہ ہو۔





