اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاءاللہ تارڑ نے پی ٹی آئی کے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے رویے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سہیل آفریدی غیر سنجیدہ انداز میں سیاست کر رہے ہیں اور ان کے بیانات سے نہ تو حب الوطنی جھلکتی ہے اور نہ ہی سنجیدہ سیاسی موقف سامنے آتا ہے۔
عطاءاللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے موجودہ معاملے کو منفی رنگ دیا ہے اور ان کے وزیراعلیٰ کا رویہ انتہائی غیر سنجیدہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سہیل آفریدی ایسی متنازع باتیں کر رہے ہیں جن سے بھارت اور افغانستان میں شہرت حاصل ہو رہی ہے اور انہیں اس پر شرم آنی چاہیے۔
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ سہیل آفریدی کے بیانات کا مقصد سنجیدہ سیاست نہیں بلکہ محض شہرت حاصل کرنا دکھائی دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا آئے روز ایسے بیانات دیتے ہیں، کبھی فوج پر تنقید، کبھی ہلاک شدہ شہریوں کے معاملات (collateral damage) پر تبصرہ، اور کبھی دہشت گردوں کی حمایت یا ان سے مذاکرات کی بات کرتے ہیں۔
تارڑ نے کہا کہ سہیل آفریدی کا رویہ نہایت عجیب اور غیر ذمہ دارانہ ہے، اور ان کی جانب سے یہ بیانات ملک و قوم کے مفاد کے برعکس ہیں۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ ملک بھر میں تعلیم اور آبادی کے حوالے سے ایک جامع پالیسی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے مختلف تجاویز زیرِ غور ہیں، جن میں چوہدری شجاعت کی سابقہ تجویز بھی شامل ہے کہ تعلیم کا معاملہ وفاق کے پاس رہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پارلیمنٹ میں ہر تجویز پر تفصیلی بات چیت ہوگی اور تمام معاملات کو زیر بحث لایا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ آئین وقت اور حالات کے مطابق ترمیم کے لیے کھلا ہے اور آئینی عدالت کے معاملات طویل عرصے سے زیر بحث ہیں۔ عطا تارڑ نے مزید کہا کہ 27ویں ترمیم میں 18ویں ترمیم کے بنیادی نکات برقرار ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مجسٹریسی نظام نیا نہیں بلکہ ملک میں پہلے بھی رائج رہا ہے، اور اب اسے دوبارہ بحال کیا جا رہا ہے۔
کابینہ کے اجلاس روٹین کے مطابق ہر ہفتے منعقد ہوتے ہیں، اور پیپلزپارٹی کی سی ای سی کے بعد اس معاملے کو کابینہ میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔





