اسلام آباد:وفاقی دارالحکومت کے معروف کابل ریسٹورنٹ کے خلاف کیش لیس پالیسی کی خلاف ورزی پر کارروائی کرتے ہوئے چیئرمین سی ڈی اے نے ریسٹورنٹ کی کھلی جگہ سیل کر دی۔
ذرائع کے مطابق کابل ریسٹورنٹ انتظامیہ کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے ادائیگی لینے سے انکار کر رہی تھی اور صرف کیش وصولی پر اصرار کر رہی تھی، جسے حکام نے ٹیکس چوری کے خدشات سے جوڑا ہے۔
چیئرمین سی ڈی اے کی ہدایت پر ایم سی آئی (میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد) نے ریسٹورنٹ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیش لیس معیشت اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کی پالیسی پر عمل درآمد ہر کاروباری ادارے کے لیے لازمی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کو کیش لیس سٹی بنانے کی مہم کے تحت تمام بڑے ریسٹورنٹس اور کاروباری اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کارڈ، کیو آر یا بینک ٹرانسفر کے ذریعے ادائیگی قبول کریں تاکہ ٹیکس چوری اور غیر قانونی لین دین کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
ذرائع کے مطابق کابل ریسٹورنٹ، جو ایف-7 مرکز میں واقع ہے، روزانہ لاکھوں روپے کی فروخت کرتا ہے مگر صرف کیش ٹرانزیکشنز پر انحصار کرتا ہے۔
ریسٹورنٹ انتظامیہ پر یہ الزام بھی ہے کہ وہ ہر بل پر 10 فیصد سروس چارجز الگ سے وصول کرتی ہے، جس کی کوئی واضح تفصیل فراہم نہیں کی جاتی۔
شہریوں کی شکایات پر کارروائی کے بعد سی ڈی اے حکام نے تنبیہ کی ہے کہ اگر کسی بھی کاروباری ادارے نے کیش لیس پالیسی کی خلاف ورزی جاری رکھی تو ان کے خلاف مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے غیر ملکی کاروباروں کے خلاف شفاف کارروائی کی جائے اور ٹیکس چوری کو روکنے کے لیے حکومت مؤثر اقدامات کرے۔





