راولپنڈی سے پہلے دس ماہ میں غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کو واپس کابل بھیجنے کی دستاویزات منظرعام آگئی ہیں۔
گزشتہ دس ماہ کے دوران راولپنڈی سے غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم افغانی باشندوں کی واپسی کا عمل جاری رہا جس کے دوران کل 4717 افراد کو واپس بھیج دیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق بغیر دستاویزات 3447 افغانی واپس بھیجے گئے جبکہ ویزہ کی مدت ختم ہونے پر 269 افراد کی واپسی عمل میں آئی۔
دستاویزات میں مزید بتایا گیا ہے کہ 22 کے قریب اے سی سی کارڈ ہولڈرز کو واپس بھیجا گیا جبکہ کل اے سی سی کارڈ ہولڈرز کی تعداد 671 رہی، پی او آر کارڈ ہولڈرز میں 1421 افراد شامل تھے۔
اس دوران حراست میں لیے گئے افغانیوں کی کل تعداد 5854 رہی جن میں سے تصدیق کے عمل کے بعد 1094 افراد کو چھوڑ دیا گیا، ہولڈنگ سینٹر میں حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد 43 رہی۔
محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ غیر قانونی افغانیوں کی واپسی کا یہ عمل جاری رہے گا اور متعلقہ افراد کی قانونی حیثیت اور دستاویزات کی تصدیق کے بعد ہی رہائی یا واپسی ممکن ہے۔
یہ بھی پڑھیں: طورخم بارڈر افغانستان واپس جانے والے افغان خاندانوں کے لیے کھول دیا گیا
یاد رہے چمن اور طورخم کے بارڈر گیٹ افغان باشندوں کی واپسی کے لیے کھول دیے گئے اور اس دوران صرف افغان شہریوں کو واپس بھیجنے کا عمل جاری رہا، سرحد پر کسی قسم کی آمدورفت یا تجارتی سرگرمی نہیں ہوئی۔
اب تک تقریباً 15 لاکھ 60 ہزار سے زائد افغان باشندے پاکستان سے واپس جا چکے ہیں، واپسی کا عمل مکمل طور پر قانونی طریقہ کار کے تحت ہو رہا ہے اور ہر شخص کے دستاویزات کی تصدیق کے بعد ہی سرحد عبور کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
واپس جانے والے افغان باشندوں کے لیے طورخم اور چمن بارڈر گیٹ پر فرنٹیئر کور اور سول انتظامیہ کی جانب سے رہائش اور کھانے کا مناسب انتظام بھی کیا گیا ہے۔





