اسلام آباد: نادرا نے شادی شدہ شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی ازدواجی حیثیت (Marital Status) نادرا کے ریکارڈ میں بروقت اپ ڈیٹ کریں تاکہ مستقبل میں کسی بھی قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔
نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے تمام شادی شدہ افراد کے لیے اہم ہدایات جاری کی ہیں اور شہریوں پر زور دیا ہے کہ اپنی ازدواجی حیثیت کی درست معلومات نادرا کے ڈیٹا بیس میں شامل کروائیں۔
نادرا کے ترجمان نے بتایا کہ بہت سے شہری اپنی شادیوں کا اندراج تو مقامی یونین کونسل میں کروا چکے ہیں، لیکن نادرا کے ریکارڈ میں ابھی تک یہ معلومات شامل نہیں کی گئیں۔
ترجمان نے شہریوں سے کہا کہ وہ قریبی نادرا سینٹر جا کر اپنی ازدواجی حیثیت درست کروا سکتے ہیں، اور یہ اقدام نادرا کے جاری منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد شہریوں کے ڈیٹا کو جدید اور درست بنانا ہے۔
مزید برآں، نادرا نے شہریوں کی سہولت کے لیے ایس ایم ایس سروس بھی متعارف کرائی ہے تاکہ شادی شدہ افراد اس حوالے سے بروقت آگاہ رہ سکیں۔
شہری مزید معلومات یا رہنمائی کے لیے نادرا کی ہیلپ لائن 1777 (موبائل صارفین کے لیے) یا 051-111-786-100 پر رابطہ کر سکتے ہیں، یا نادرا کی آفیشل ویب سائٹ [www.nadra.gov.pk](http://www.nadra.gov.pk) وزٹ کر سکتے ہیں۔
نادرا نے واضح کیا کہ شناختی کارڈ پر ازدواجی حیثیت اپ ڈیٹ کروانے کی فیس 100 روپے ہے، اور اس کے لیے نکاح نامہ یا شادی کا سرٹیفکیٹ لازمی فراہم کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں : نادرا کا 18 سال سے زائد عمر کے بچوں کے والدین کیلیے پیغام
نادرا نے والدین کے لیے پیغام جاری کیا ہے کہ اگر ان کے بچوں کی عمر 18 سال سے زیادہ ہو چکی ہے اور انہوں نے ابھی تک اپنا قومی شناختی کارڈ نہیں بنوایا، تو وہ فوری طور پر اس کی درخواست دیں۔
ادارے کے مطابق 18 سال کی عمر میں پہلا شناختی کارڈ حاصل کرنا ایک ذمہ داری اور شہری ہونے کی پہلی علامت ہے، اور والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو یہ قانونی حق دلائیں۔
نادرا نے متعلقہ خاندانوں کو اس بارے میں ایس ایم ایس کے ذریعے مطلع کرنا شروع کر دیا ہے۔
شناختی کارڈ بنانے کے لیے والدین یا بہن بھائی کے شناختی کارڈ ہونا ضروری ہیں۔ اگر بچہ لاوارث یا سرپرست کے زیرِ سرپرستی ہے تو قانونی سرپرست اور سرپرستی کے دستاویزات ساتھ لانا لازمی ہے۔
ساتھ ہی ب فارم یا یونین کونسل، کنٹونمنٹ بورڈ سے جاری شدہ کمپیوٹرائزڈ پیدائش سرٹیفکیٹ یا نیچرلائزیشن/سٹیزن شپ سرٹیفکیٹ بھی پیش کرنا ہوں گے۔
کارڈ بنانے کے عمل میں پہلے ٹوکن حاصل کیا جاتا ہے اور اپنی باری کا انتظار کیا جاتا ہے۔ باری آنے پر بائیو میٹرک تصدیق کے لیے نادرا کے کاؤنٹر پر جانا ہوتا ہے اور والدین یا بہن بھائی میں سے کسی ایک کی بائیو میٹرک تصدیق کروانی ہوتی ہے۔
اس کے بعد ڈیٹا انٹری کے دوران ذاتی معلومات درج کروائی جاتی ہیں، تصویریں اور انگلیوں کے نشانات لیے جاتے ہیں اور فارم کی درستگی چیک کی جاتی ہے۔
فارم کی تصدیق کے لیے والدین یا بہن بھائی میں سے کسی ایک کی بائیو میٹرک تصدیق ضروری ہے، جبکہ قانونی سرپرست والے کیس میں گزیٹیڈ افسر یا عوامی نمائندے سے تصدیق کروانا لازمی ہوتا ہے۔





