کے پی حکومت دہشتگردی کیخلاف جنگ میں وفاق اور افواج کیساتھ ہے، مزمل اسلم

مشیر خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومت وفاق اور مسلح افواج کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا واحد صوبہ ہے جس نے دہشتگردی کے خلاف اپنا صوبائی ایکشن پلان مرتب کیا ہے اور اس پر عملی اقدامات جاری ہیں۔

مزمل اسلم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ وفاق کے ساتھ ایک پیج پر ہے، تاہم بعض اوقات سیاسی غلط فہمیاں پیدا کر دی جاتی ہیں۔ دہشتگردوں کے خلاف انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کے دوران اگر عوام کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کا ازالہ کے پی حکومت کر رہی ہے۔

مشیر خزانہ نے بتایا کہ پولیس فورس کو اس مقصد کے لیے 7 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں اور بلٹ پروف گاڑیاں بھی فراہم کی گئی ہیں تاکہ دہشتگردوں کا موثر مقابلہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا’’ہم دہشتگردی کے خاتمے میں وفاق کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہے ہیں اور صوبے کی سلامتی ہماری اولین ترجیح ہے۔‘‘

مزمل اسلم نے افغان مہاجرین کی واپسی کے معاملے پر بھی بات کی اور کہا کہ کے پی حکومت چاہتی ہے کہ مہاجرین کی واپسی باعزت اور منظم انداز میں ہو۔ پاکستان سے اب تک جو مہاجرین واپس گئے، ان میں سے 80 فیصد کے پی سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت نے مہاجرین کی واپسی پر کوئی مالی تعاون نہیں کیا، اور تمام اخراجات کے پی حکومت نے خود برداشت کیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزارت داخلہ اور صوبائی محکمہ داخلہ مل کر کام کر رہے ہیں، لیکن وفاقی حکومت نے آئی ڈی پیز کے لیے فنڈز روک رکھے ہیں۔ ’’ہم ماہانہ 40 کروڑ روپے آئی ڈی پیز کو ادا کر رہے ہیں اور باجوڑ سمیت دیگر اضلاع سے بے گھر افراد کو ساڑھے تین ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، جس کی وجہ سے وفاق کے پی حکومت کا مقروض ہے۔

مزمل اسلم نے این ایف سی کے حوالے سے بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ ضم اضلاع کو این ایف سی میں شامل کرنے کے لیے صوبائی حکومت مسلسل جدوجہد کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے چار ماہ میں این ایف سی سے 65 ارب روپے کم موصول ہوئے، جبکہ وفاق سے ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی 40 ارب روپے کی کمی ہوئی ہے۔

Scroll to Top