خیبرپختونخوا حکومت نے تبدیلی کا نعرہ لگا کر لوگوں کو استعمال کیا، طلال چودھری

وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے تبدیلی کا نعرہ لگا کر عوام کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا۔

پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے طلال چودھری کا کہنا ہے کہ دو مرتبہ خیبرپختونخوا سے وفاق پر دھاوا بولا گیا، جس میں سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔

طلال چودھری نے الزام لگایا کہ دھرنوں کے لیے اساتذہ، ڈاکٹرز اور دیگر سرکاری ملازمین کو زبردستی ساتھ لایا گیا۔

وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چودھری کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے تبدیلی کا نعرہ صرف عوام کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کیا۔

مصطفیٰ کمال نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو بروقت اور درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ دھرنوں کی سیاست اب ختم ہونی چاہیے۔

فیصل واوڈا نے بھی ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ملک اب قانون کے مطابق ہی چلے گا اور دھونس دھاندلی یا غنڈہ گردی کی سیاست کی مزید کوئی گنجائش نہیں رہی۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور ہائیکورٹ نے سیاسی جلسے جلوسوں میں سرکاری وسائل کے استعمال پر پابندی لگا دی

واضح رہے پشاور ہائی کورٹ نے سیاسی سرگرمیوں میں سرکاری وسائل کے استعمال کو فوری طور پر روکنے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ سرکاری وسائل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا عوامی اعتماد سے غداری کے مترادف ہے۔

عدالتی فیصلے میں لانگ مارچ کے لیے سرکاری گاڑیوں کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کرتے ہوئے کہا گیا کہ سیاسی ریلیوں میں ریسکیو مشینری اور فائر بریگیڈ کا استعمال کھلی بددیانتی ہے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 3، 4 اور 25 کے تحت عوامی وسائل کسی ایک سیاسی جماعت کی ملکیت نہیں ہو سکتے۔

عدالت نے خیبرپختونخوا حکومت کو ہدایت کی کہ لانگ مارچ کے لیے سرکاری مشینری اور عملہ تعینات نہ کیا جائےساتھ ہی صوبائی حکام کو سرکاری وسائل کے غلط استعمال سے سختی کے ساتھ روکنے کا حکم بھی جاری کیا گیا۔

Scroll to Top