آئینی راستے پر ڈٹے رہتے ہوئے، اپنے لیڈر سے ملنے کا حق کوئی بھی نہیں چھین سکتا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

آئینی راستے پر ڈٹے رہتے ہوئے، اپنے لیڈر سے ملنے کا حق کوئی بھی نہیں چھین سکتا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ آئینی راستے پر ڈٹے رہتے ہوئے اپنے لیڈر سے ملاقات کا حق کوئی نہیں چھین سکتا، عوام کا فیصلہ ٹیسٹ یا ون ڈے کی بیٹنگ کریگا۔

تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وہ آئینی راستے پر چل کر اپنے لیڈر سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں اور اس راستے میں کوئی بھی طاقت انہیں جھکا نہیں سکتی۔ آئی ایس ایف کے یوم تاسیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنی مضبوط قیادت اور آئینی اصولوں پر قائم رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔

سہیل آفریدی نے اپنے خطاب میں واضح طور پر کہا کہ وہ آئین اور قانون کی حدود میں رہ کر اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے قائل ہیں۔ ان کا کہنا تھا’’آئینی راستے پر ڈٹے رہتے ہوئے، اپنے لیڈر سے ملنے کا حق کوئی بھی نہیں چھین سکتا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ طاقت کے بل بوتے پر کسی کو بھی آئین سے انحراف کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اور وہ ہمیشہ اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہیں گے۔

وزیراعلیٰ نے اس موقع پر اپنی سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ وہ ابھی ’’آرام سے کھیل‘‘ رہے ہیں۔ سہیل آفریدی نے خیبر پختونخوا کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ صوبے کے ساڑھے چار کروڑ عوام کے وزیراعلیٰ ہیں اور ان کی قیادت کا مقصد عوام کی خدمت کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کا فیصلہ ہے کہ وہ کس طرح کی سیاست کریں گے۔ ’’عوام فیصلہ کریں کہ میرے لیے ٹیسٹ کی بیٹنگ کرنی ہے یا ون ڈے کی۔‘‘

سہیل آفریدی کا یہ بیان اس وقت آیا جب خیبر پختونخوا میں سیاسی منظر نامے میں کشیدگی اور مختلف سیاسی دھڑوں کے درمیان تنازعات بڑھ رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ وہ کسی قسم کی غیر آئینی یا غیر قانونی راہ پر چلنے کے بجائے ہمیشہ آئین کی پاسداری کریں گے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سہیل آفریدی نے اس بیان کے ذریعے نہ صرف اپنی سیاسی پوزیشن کو مضبوط کرنے کی کوشش کی بلکہ مخالفین کو بھی واضح پیغام دیا کہ ان کی قیادت کسی کے دباؤ یا طاقت کے سامنے نہیں جھکے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ صوبے کی ترقی اور عوام کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ہر محاذ پر لڑنے کے لیے تیار ہیں۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنے خطاب میں یہ بھی واضح کیا کہ فیصلہ عوام کا ہے اور انہیں یہ حق ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ ان کا وزیراعلیٰ کس طرح کی سیاسی حکمت عملی اختیار کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ چاہے وہ ’’ٹیسٹ کی بیٹنگ‘‘ کریں یا ’’ون ڈے‘‘ان کا مقصد صرف عوام کی خدمت اور صوبے کی ترقی ہے۔

Scroll to Top