خیبرپختونخوا میں بڑے پیمانے پر افسران کے تبادلے

خیبرپختونخوا محکمہ محنت میں تبادلوں پر پابندی، بغیر منظوری افسر یا اسٹاف کی تبدیلی ممکن نہیں

خیبرپختونخوا محکمہ محنت میں تبادلوں اور تعیناتیوں پر مکمل پابندی،تمام تبدیلیاں وزیر محنت کی منظوری سے مشروط، خلاف ورزی پر سخت کارروائی کا اعلان۔

تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا محکمہ محنت نے اپنے تمام متعلقہ ذیلی اداروں میں تبادلوں اور تعیناتیوں پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ محکمہ محنت کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق، محکمہ میں کسی بھی افسر یا اسٹاف کی تبدیلی بغیر وزیر محنت کی پیشگی منظوری کے نہیں ہو سکے گی۔ یہ فیصلہ وزیر محنت خیبرپختونخوا کی ہدایت پر فوری طور پر نافذ کیا گیا ہے۔

محکمہ محنت خیبرپختونخوا کے مطابق’’تمام تبادلے اور تعیناتیاں حکم ثانی تک معطل رہیں گی۔‘‘ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ وزیر محنت کی پیشگی منظوری کے بغیر کسی بھی قسم کے تبادلے یا تقرریاں نہیں کی جا سکیں گی۔ محکمہ محنت اور اس کے تمام ذیلی اداروں میں اس پابندی کا مقصد انتظامی معاملات میں بہتری لانا اور غیر ضروری تبدیلیوں سے بچنا ہے۔

یہ فیصلہ محکمہ محنت کے انتظامی افسران کی جانب سے پیش آنے والی بے ضابطگیوں اور غیر قانونی تبدیلیوں کے خلاف اٹھایا گیا ہے تاکہ محکمہ کے معاملات میں شفافیت اور استحکام لایا جا سکے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی بھی افسر یا اسٹاف نے اس پابندی کی خلاف ورزی کی تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

محکمہ محنت کی طرف سے جاری ہونے والے اعلامیے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ’’ہر قسم کے تبادلوں اور تعیناتیوں کے لیے وزیر محنت کی پیشگی منظوری لازمی ہو گی۔‘‘ اس پابندی کے نفاذ سے نہ صرف انتظامی امور میں شفافیت آئے گی بلکہ محکمہ کے عملے کے درمیان ہم آہنگی بھی بڑھے گی۔

وزیر محنت خیبرپختونخوا’’وزیر کا نام اگر دستیاب ہو نے اس پابندی کو ایک ضروری قدم قرار دیا ہے تاکہ محکمے میں نظم و ضبط کو بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام محکمہ محنت میں کارکردگی کو بہتر بنانے اور غیر ضروری تنازعات کو کم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ وزیر محنت کی منظوری کے بغیر کسی بھی افسر یا اسٹاف کی تبدیلی نہیں کی جائے گی اور اگر کوئی اس پابندی کو نظر انداز کرے گا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ محکمے کے ذرائع نے کہا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف ادارے میں نظم و ضبط آئے گا بلکہ یہ یقین دہانی بھی ہو گی کہ انتظامی معاملات وزیر کی نگرانی میں رہیں۔

خیبرپختونخوا محکمہ محنت کی جانب سے یہ پابندی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے عائد کی گئی ہے کہ تمام افسران اور اسٹاف کی تعیناتی اور تبادلے باقاعدہ طریقے سے وزیر محنت کی منظوری سے ہوں۔ یہ قدم اس لیے بھی اہم ہے کہ محکمہ میں گزشتہ کچھ عرصے سے افسران کی تبدیلیوں اور تعیناتیوں میں غیر ضروری تنازعات اور بے ضابطگیاں سامنے آئی تھیں۔

یہ پابندی فی الحال محکمہ محنت اور اس کے ذیلی اداروں تک محدود ہے، لیکن حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر یہ قدم کامیاب رہا تو دیگر محکموں میں بھی اس قسم کی پابندیاں عائد کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے تاکہ محکموں کی کارکردگی میں بہتری لائی جا سکے۔

Scroll to Top