بشریٰ بی بی کے روحانی اثر نےبانی پی ٹی آئی کے اصلاحاتی ایجنڈے کو ناکام بنایا، برطانوی جریدہ

بشریٰ بی بی کے روحانی اثر نےبانی پی ٹی آئی کے اصلاحاتی ایجنڈے کو ناکام بنایا، برطانوی جریدہ

دی اکانومسٹ کی رپورٹ، بشریٰ بی بی کے سیاسی اثرات اور عمران خان کی سرکاری فیصلوں میں روحانی مداخلت کا انکشاف۔

تفصیلات کے مطابق برطانوی جریدہ ’’دی اکانومسٹ‘‘ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر ایک خصوصی رپورٹ شائع کی ہے، جس میں ان کے سیاسی اثر و رسوخ اور سرکاری فیصلوں پر مداخلت کے دعوے کیے گئے ہیں۔

جریدے کے سینئر صحافی اوون بینیٹ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی اہم تقرریوں اور سرکاری فیصلوں میں اثرانداز ہونے کی کوشش کرتی رہی ہیں، اور عمران خان کی فیصلہ سازی میں روحانی مشاورت کا عنصر نمایاں رہا ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2021 میں عمران خان اور فوج کے تعلقات میں خرابی شروع ہوئی، جب انہوں نے آئی ایس آئی کے نئے سربراہ کی تعیناتی پر حمایت سے انکار کیا۔ اس دوران عمران خان نے اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی پر اعتماد بڑھا دیا، جو بعض ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کی اہم سرکاری فیصلوں پر اثر انداز ہو رہی تھیں۔

اس رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بشریٰ بی بی کی شخصیت اور اثر و رسوخ نے بعض حلقوں میں شکایات کو جنم دیا، اور بعض مبصرین نے الزام لگایا کہ وہ سرکاری معاملات میں غیر ضروری دخل اندازی کرتی ہیں۔ مخالفین کا دعویٰ ہے کہ بشریٰ بی بی اور ان کے روحانی مشیر ایک ’’روحانی کارٹیل‘‘ کے طور پر وزیر اعظم کی رہنمائی کر رہے تھے، جبکہ حامی انہیں ایک روحانی رہنما کے طور پر دیکھتے ہیں جو مشکل حالات میں ملک کی سمت درست کرنے میں معاون ثابت ہو رہی ہیں۔

دی اکانومسٹ کی رپورٹ میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی کا سیاسی اور روحانی اثر صرف پارٹی سطح تک محدود نہیں رہا، بلکہ انہوں نے بعض اوقات حکومت کی اعلیٰ سطحی تقرریوں اور پالیسی فیصلوں پر بھی اثر ڈالنے کی کوشش کی۔

رپورٹ میں پاکستان کے سیاسی حالات کی پیچیدگیوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ سابق وزیراعظم اور فوج کے تعلقات میں تناؤ، بشریٰ بی بی اور ان کے روحانی مشیر کے کردار سے مزید پیچیدہ ہوا۔ عمران خان کی گرفتاری اور فوج کے ساتھ تناؤ نے ملک کی سیاسی صورتحال کو متنازع اور نازک بنا دیا۔

جریدے کے مطابق بشریٰ بی بی اور ان کے مشوروں کی موجودگی نے بعض حلقوں میں وزیراعظم کے فیصلوں کو روحانی رہنمائی اور خوابوں کی بنیاد پر ہونے کا تاثر دیا، جبکہ ان کے حامی انہیں ملک کے لیے رہنمائی فراہم کرنے والی ایک اہم شخصیت کے طور پر دیکھتے ہیں۔

Scroll to Top