وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کو آئینی ترامیم کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور اگر مستقبل میں مزید ترامیم کی ضرورت پڑی تو یہ عمل بھی کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ججز کے استعفے سیاسی نوعیت کے ہیں اور بعض لوگوں نے پارلیمنٹ کو میونسپل کارپوریشن بنا دیا تھا۔ فیصل آباد میں پریس کانفرنس کے دوران طلال چودھری نے کہا کہ ملک کا آئین پارلیمنٹ اور عوام کی مرضی کے مطابق ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کبھی کبھار حکومت کو سوموٹو نوٹس کے تحت گھر بھیج دیا جاتا ہے اور ہر شخص اپنی مرضی کے فیصلے کر دیتا ہے، جو آئین کے مطابق درست نہیں۔
وزیر مملکت نے کہا کہ سیاسی انتقام روکنے کے لیے 27ویں آئینی ترمیم میں مثالی اقدامات کیے گئے ہیں اور ملک کے استحکام کے لیے مزید ترامیم کی ضرورت پڑنے پر بھی وہ تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کا بائیکاٹ کرنے والے افراد سیاسی مقابلے کے اہل نہیں ہیں۔
طلال چودھری نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے متعلق کہا کہ وہ اپنے فرائض بخوبی انجام دیں تو عہدے پر برقرار رہیں گے، لیکن اگر کوئی اور راستہ اختیار کیا تو وفاق کے پاس آئینی اختیارات موجود ہیں۔
انہوں نے پنجاب کے گیارہ حلقوں میں الیکشن سکیورٹی کے انتظامات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، اور صوبائی فورسز کے علاوہ دیگر ادارے بھی طلب کیے جا سکتے ہیں۔





