وفاقی آئینی عدالت نے کنگ ایڈورڈ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی تقرری کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے اپنا پہلا بڑا فیصلہ سناتے ہوئے کنگ ایڈورڈ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی تقرری کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ نے اس تقرری کے خلاف پہلے فیصلہ دیا تھا، تاہم یہ کیس گزشتہ آٹھ سالوں سے سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر نہیں ہو سکا تھا۔ آخر کار وفاقی آئینی عدالت نے اس معاملے کی مکمل سماعت کی اور ہائی کورٹ کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دے دیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ وائس چانسلر کی تقرری کے عمل میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے تھے، اور اس لیے ہائی کورٹ کا فیصلہ درست نہیں تھا۔ آئینی عدالت کے مطابق تعلیمی اداروں میں قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جا سکتی۔
اس فیصلے کے بعد کنگ ایڈورڈ یونیورسٹی میں وائس چانسلر کی تقرری کے حوالے سے نئے اقدامات کیے جا سکتے ہیں، اور ملک کی دیگر جامعات میں بھی انتظامی تقرریوں کے عمل پر اس فیصلے کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین تعلیم اور قانونی حلقوں کے مطابق آئینی عدالت کا یہ فیصلہ تعلیمی اداروں میں شفافیت اور قانونی تقاضوں کی اہمیت کو یقینی بنانے میں سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔





