بنگلہ دیش کی عدالت نے حسینہ واجد کو مجرم قرار دیدیا

بنگلہ دیش کی عدالت نے حسینہ واجد کو مجرم قرار دیدیا

بنگلہ دیش کی عدالت نے حسینہ واجد کو انسانیت کے خلاف جرائم کا مجرم قرار دے دیا

تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش کی تین رکنی انٹرنیشنل کرائمز ٹریبیونل نے سابق وزیراعظم حسینہ واجد، سابق وزیر داخلہ اور آئی جی پولیس پر انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں فیصلہ سناتے ہوئے حسینہ واجد کو مجرم قرار دیدیا۔

عدالت کے فیصلے کے مطابق، حسینہ واجد نے مظاہرین کے قتل کے لیے ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز کے استعمال کی اجازت دی، اشتعال انگیز تقاریر کے ذریعے لوگوں کو مظاہرین کے خلاف اکسانے میں کردار ادا کیا اور متعدد واقعات میں براہ راست قتل کا حکم دیا۔

پراسیکیوٹر کے دلائل میں بتایا گیا کہ بیگم رقعیہ یونیورسٹی کے طالب علم ابو سعید کو جان بوجھ کر قتل کیا گیا، ڈھاکا میں چھ مظاہرین کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا، اور آشلولیا میں چھ افراد کو زندہ جلایا گیا۔

یہ فیصلہ بنگلہ دیش میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور مظاہرین پر ریاستی تشدد کے خلاف ایک اہم سنگِ میل تصور کیا جا رہا ہے، اور ملک میں انصاف کے نظام پر ایک بار پھر توجہ مرکوز کر دی گئی ہے۔

Scroll to Top