بنگلہ دیش کی عدالت نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں سزائے موت سنا دی
تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش کی انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے سزائے موت کا حکم دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ بنگلہ دیش کی تاریخ میں ایک سنگ میل ہے، کیونکہ پہلی بار کسی موجودہ حکومت کے سربراہ کے خلاف ٹریبونل کی جانب سے اتنا سخت عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ تین رکنی بینچ نے سنایا، جس کی سربراہی جسٹس غلام مرتضیٰ موجمدار نے کی، جبکہ بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس شفیع العالم محمود اور جج محیط الحق انعام چوہدری شامل تھے۔ عدالت نے فیصلہ سابق وزیراعظم کی غیر حاضری میں سنایا، کیونکہ وہ اس وقت بھارت میں خود ساختہ جلا وطنی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
استغاثہ کے مطابق، مقدمے کے دلائل 23 اکتوبر کو مکمل ہو چکے تھے، جس میں چیف پراسیکیوٹر محمد تاج الاسلام اور اٹارنی جنرل محمد اسد الزماں نے اختتامی بیانات پیش کیے تھے۔ شیخ حسینہ پر الزام ہے کہ انہوں نے 2024 میں طلبہ تحریک کے خلاف کریک ڈاؤن کے احکامات دیے، جس کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر ہلاکتیں ہوئیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق مظاہروں کے دوران تقریباً 1400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
سابق وزیراعظم کی جماعت عوامی لیگ نے عدالتی فیصلے کے خلاف ملک گیر احتجاج کی کال دے دی ہے، اور بنگلہ دیش میں سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں تاکہ حالات قابو میں رہیں۔
یہ فیصلہ نہ صرف بنگلہ دیش کی سیاسی تاریخ میں اہم سنگ میل ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی بحث کا موضوع بن سکتا ہے، کیونکہ یہ موجودہ سیاسی قیادت کے خلاف انسانی حقوق اور قانونی کارروائیوں کے تناظر میں اہم مثال قائم کرتا ہے۔





