پاک افغان بارڈرز کی بندش سے دوطرفہ تجارت متاثر، اکتوبر میں مجموعی تجارت 54 فیصد تک گر گئی

پاک افغان بارڈرز کی بندش سے دوطرفہ تجارت متاثر، اکتوبر میں مجموعی تجارت 54 فیصد تک گر گئی

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت سرحدی بندش کے باعث شدید متاثر ہوئی ہے۔ وزارتِ تجارت کے ذرائع کے مطابق بارڈرز کی مسلسل بندش نے دوطرفہ تجارتی سرگرمیوں کو نہ صرف سست کیا بلکہ اکتوبر کے مہینے میں مجموعی تجارت 54 فیصد تک کم ہو گئی۔

سالانہ اور ماہانہ بنیادوں پر نمایاں کمی
اعداد و شمار کے مطابق:
اکتوبر 2025 میں دوطرفہ تجارت صرف 11 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہی۔
ستمبر 2025 میں یہ حجم 17 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تھا۔
اکتوبر 2024 میں تجارت 24 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تک ریکارڈ کی گئی تھی۔

یعنی سالانہ بنیادوں پر تجارت میں 54 فیصد جبکہ ماہانہ بنیادوں پر 36 فیصد کمی سامنے آئی ہے۔
پاکستانی برآمدات آدھی رہ گئیں
ذرائع کے مطابق افغانستان کے لیے پاکستانی برآمدات میں واضح کمی دیکھی گئی:
اکتوبر 2025 میں برآمدات: 5 کروڑ 90 لاکھ ڈالر
ستمبر 2025 میں برآمدات: 8 کروڑ 10 لاکھ ڈالر
اکتوبر 2024 میں حجم: 13 کروڑ ڈالر

اس طرح سالانہ بنیادوں پر برآمدات 55 فیصد تک گر چکی ہیں۔
افغانستان سے درآمدات بھی شدید متاثر
افغانستان سے درآمدات میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی:
اکتوبر 2025: 5 کروڑ 50 لاکھ ڈالر
ستمبر 2025: 9 کروڑ 60 لاکھ ڈالر
اکتوبر 2024: 11 کروڑ 70 لاکھ ڈالر

سالانہ بنیادوں پر افغانستان سے درآمدات 53 فیصد تک کم ہوگئیں۔
سرحد کی بندش کی وجہ
ذرائع کے مطابق پاک افغان کراسنگ پوائنٹس کو سکیورٹی صورتحال کے باعث 12 اکتوبر سے غیر معینہ مدت کے لیے بند کیا گیا ہے۔ سرحدی بندش کے باعث مال بردار گاڑیاں پھنس گئیں ٹرانزٹ ٹریڈ رک گئی

دونوں ممالک کے تاجروں اور کاروباری طبقے کو بھاری نقصان کا سامنا ہے
تاجر برادری کی تشویش
تاجر تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ:
سرحد جلد از جلد کھولی جائے
متبادل تجارتی راستے فراہم کیے جائیں

پھنسے ہوئے سامان کے لیے فوری بحالی پلان ترتیب دیا جائے
مستقبل کی صورتحال
بارڈر کی مسلسل بندش نہ صرف تجارت بلکہ دونوں ممالک کی معیشتوں پر دباؤ بڑھا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر صورتحال برقرار رہی تو:
تجارت مزید کم ہوسکتی ہے
قیمتوں میں اضافہ
کاروباری حلقوں میں بے چینی بڑھے گی

Scroll to Top