انوار الحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب، فیصل ممتاز راٹھور نئے وزیراعظم آزادکشمیر منتخب

آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں وزیراعظم چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہو گئی جس کے بعد فیصل ممتاز راٹھور نئے وزیراعظم منتخب ہوئے۔

تحریکِ عدم اعتماد کے حق میں 36 ووٹ پڑے جبکہ 2 ارکان نے مخالفت کی۔

اس تحریک کو جمعہ کو اسمبلی سیکریٹریٹ میں پیش کیا گیا تھا، جس پر 25 ارکان نے دستخط کیے، جن میں سے 23 ارکان کا تعلق پیپلز پارٹی اور 2 کا مسلم لیگ (ن) سے تھا۔

یہ بھی پڑھیں : پشاور: 347 طلبہ میں 64 ملین روپے کی اسکالرشپس تقسیم

قبل ازیں پیپلز پارٹی کے رکن قاسم مجید نے ایوان میں یہ تحریک پیش کی۔ اسپیکر چوہدری لطیف اکبر کی زیر صدارت اجلاس میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ارکان کے ساتھ قائدِ حزبِ اختلاف خواجہ فاروق احمد بھی موجود تھے۔

اجلاس کے آغاز کے کچھ دیر بعد وزیراعظم انوارالحق اپنے چار ساتھیوں کے ساتھ ایوان پہنچے اور پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار راجا فیصل ممتاز راٹھور سے مصافحہ کیا۔

اتوار کو پی ٹی آئی کے فارورڈ بلاک کے دو وزرا، دیوان علی چغتائی اور تقدیس کوثر گیلانی، صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور سے ملاقات کے بعد پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے، جس کے بعد پارٹی کی مجموعی تعداد 29 ہو گئی۔

اکتوبر میں بھی پی ٹی آئی فارورڈ بلاک کے 10 ارکان نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی، جس سے پارٹی کی تعداد 27 تک پہنچ گئی تھی۔ چونکہ اسمبلی میں سادہ اکثریت کے لیے 27 ووٹ درکار ہیں، اس لیے پیپلز پارٹی واضح برتری رکھتی ہے۔

آئینِ آزاد کشمیر کے مطابق تحریکِ عدم اعتماد میں ووٹ اس رکن کے حق میں شمار ہوتا ہے جسے بطور متبادل وزیراعظم نامزد کیا گیا ہو۔

اس اسمبلی نے 2021 میں قیام کے بعد صرف چار سال میں تین وزرائے اعظم دیکھے ہیں۔ ابتدا میں پی ٹی آئی نے عبدالقیوم نیازی کو 35 ووٹ لے کر کامیاب کروایا، لیکن 9 ماہ بعد انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔

بعد ازاں سردار تنویر الیاس وزیراعظم بنے، جنہیں اپریل 2023 میں توہینِ عدالت کے الزام میں نااہل قرار دیا گیا۔ اس کے بعد چوہدری انوارالحق نے عہدہ سنبھالا تھا، اور اب فیصل ممتاز راٹھور نئے وزیراعظم کی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دیں گے۔

Scroll to Top