بی آر ٹی پشاور پر کنٹونمنٹ بورڈ کے 4 ارب 44 کروڑ روپے سے زائد واجبات سامنے آگئے

پشاور(محمداعجازآفریدی)خیبرپختونخوا حکومت کے فلیگ شپ منصوبے بی آرٹی پر پشاور کنٹونمنٹ بورڈ کے 3 ارب 55 کروڑ57 لاکھ روپے کے واجبات سامنے آگئے ہیں۔

بتایاجاتاہے کہ سی بی پی نے واجب الادا رقم پر 25 فیصد ڈیلیڈکمپنشین چارجز بھی عائد کردئیے ہیں جس کے بعد بی آر ٹی پر واجبات کی رقم بڑھ کر 4 ارب 44 کروڑ روپے سے زائد ہوگئی ہے ۔

کنٹونمنٹ بورڈ نے واضح کیاہے کہ بروقت ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں سالانہ 5 فیصد جرمانہ بھی وصول کیاجائے گا۔

دستاویزات کے مطابق پشاور میں بی آر ٹی منصوبے سے متعلق واجبات کی عدم ادائیگی کا معاملہ ایک بار پھر سنگین صورت اختیار کر گیا ہے کیونکہ کنٹونمنٹ بورڈ پشاور نے پی ڈی اے اور صوبائی حکومت کو بھیجے گئے مراسلے میں واضح کیا ہے کہ متعدد یاد دہانیوں کے باوجود 3 ارب 55 کروڑ57 لاکھ روپے سے زائد کی رقم ابھی تک ادا نہیں کی گئی جس کی وجہ سے کنٹونمنٹ بورڈ کو شدید مالی بحران اور ترقیاتی کاموں میں رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سیکیورٹی فورسز کی ڈیرہ اسماعیل خان میں کارروائی، 10 دہشتگرد ہلاک

دستاویزات کے مطابق بی آر ٹی ریچ ٹو کے تحت 22 نومبر 2017 کو پی ڈی اے اور کنٹونمنٹ بورڈ کے درمیان ہونے والے معاہدے میں زمین کے معاوضے، کمرشلائزیشن چارجز اور ڈسٹریس چارجز کی ادائیگی شامل تھی، تاہم مقررہ مدت گزرنے کے باوجود کینٹونمنٹ بورڈ کو صرف 40 کروڑ 90 لاکھ روپے ادا کیے گئے، جبکہ باقی پوری رقم تاحال واجب الادا ہے۔

زمین کے معاوضے میں کیپٹن روح اللہ شہید چوک کی 311 مرلے اراضی اور جناح پارک کی تقریباً 498 مرلے زمین شامل ہے، اسکے علاوہ ڈبگری گارڈن اسٹیجنگ اسٹیشن کے لئے کمرشلائزیشن چارجز اور 2019 سے 2020 کے دوران ڈسٹریس چارجز بھی معاہدے کا حصہ تھے۔

دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 26 مارچ 2025 کو محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا میں اعلیٰ سطح اجلاس میں اس معاملے پر تفصیلی بات ہوئی جہاں مشیر برائے فنانس، سیکرٹری پی اینڈ ڈی، سیکرٹری ٹرانسپورٹ، ڈی جی پی ڈی اے، سی ای او کینٹ بورڈ پشاور اور سی ای او ٹرانس پشاور سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ڈبگری اسٹیجنگ اسٹیشن کی کمرشلائزیشن فیس اور ڈسٹریس چارجز قابل ادائیگی ہیں، تاہم اس کے باوجود کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔

 

دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا کہ بی آر ٹی کی تعمیر کے دوران کینٹ ایریا کی کئی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا، نکاسی آب کا نظام متاثر ہوا، زیرزمین ڈرینیج لائنز اور برساتی پانی کی گزرگاہیںناکارہ ہوئی جس کے باعث بارشوں کے دوران شہری علاقوں میں بار بار سیلابی صورتحال پیدا ہوئی۔

ان نقصانات کا ازالہ نہ پی ڈی اے کی جانب سے کیاگیا اور نہ ہی بی آر ٹی انتظامیہ نے نقصان کے ازالے میں تعاون کیا، جس کے باعث کنٹونمنٹ بورڈ کو اپنی محدود مالی وسائل سے ایمرجنسی مرمت کرنی پڑی،ایسی صورتحال نے نہ صرف ترقیاتی منصوبوں کو متاثر کیا بلکہ کینٹ بورڈ کی آمدن میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی۔

دستاویزات میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ بی آر ٹی کے خلاف کلیمز کی مالیت ڈی سی ریٹ 2018-19کے مطابق طے کی گئی تھی، اور اگر موجودہ ڈی سی ریٹ پر ازسرنو جائزہ لیا جائے تو واجبات کی رقم دگنی ہوسکتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق آمدنی میں کمی کے باعث بورڈ نے ڈیلیڈ کمپنسیشن چارجز کی تجویز دی جسے بورڈ نے اپنے اجلاس مورخہ 30 مئی 2025 میں منظور کیا۔

فیصلے کے مطابق پی ڈی اے اور صوبائی حکومت پر 25 فیصد اضافی چارجز عائد کیے جائیں گے، جو مجموعی رقم کو بڑھا کر 4 ارب 44 کروڑ 44 لاکھ روپے تک جاپہنچتے ہیں جبکہ ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں ہر سال 5 فیصد اضافی جرمانہ بھی وصول کیا جائے گا۔

کنٹونمنٹ بورڈ نے اپنے مراسلے میں صوبائی چیف سیکرٹری، سیکرٹری فنانس، سیکرٹری ٹرانسپورٹ اور متعلقہ حکام سے گزارش کی ہے کہ اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے تاکہ طویل عرصے سے زیرِ التواءواجبات ادا کیے جاسکیں اور کنٹوونمنٹ کی روزمرہ مالی ضروریات اور ترقیاتی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں، بورڈ نے واضح کیا ہے کہ اگر اس مسئلے کو بروقت حل نہ کیا گیا تو نہ صرف مالی بحران مزید گہرا ہوگا بلکہ متعدد اہم سول سروسز بھی متاثر ہوسکتی ہیں۔

Scroll to Top