حسینہ واجد کے خلاف عدالتی فیصلے پر جماعت اسلامی کا ردعمل سامنے آگیا

بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم حسینہ واجد کو ملنے والی سزا پر جماعت اسلامی کا ردِ عمل بھی سامنے آگیا۔

جماعت اسلامی پاکستان کے سربراہ حافظ نعیم الرحمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں کہا کہ بنگلہ دیش میں آج جو واقعہ پیش آیا وہ دنیا کے لیے ایک عبرت ناک سبق ہے۔

اُن کے مطابق حسینہ واجد نے اقتدار کے پندرہ برسوں میں جھوٹے مقدمات کی سیاست کو فروغ دیا، عدالتی فیصلوں کو انتقام کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور فسطائیت پر مبنی حکمرانی اپنائی۔

یہ بھی پڑھیں : بی آر ٹی پشاور پر کنٹونمنٹ بورڈ کے 4 ارب 44 کروڑ روپے سے زائد واجبات سامنے آگئے

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ بھارتی سرپرستی کے باوجود حسینہ واجد نہ تو نئی نسل کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہو سکیں اور نہ ہی عوامی لیگی فسطائیت کو مستقل بنیادوں پر قائم رکھ سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ اُن کے قائم کردہ خصوصی ٹریبونل نے بالآخر حسینہ واجد کے خلاف انتہائی سزا کا فیصلہ سنایا، حالانکہ یہ وہی عدالت تھی جس نے ماضی میں متعدد محب وطن اور محب اسلام شخصیات کو پھانسی کے تختے پر چڑھایا۔

حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ یہ واقعہ دنیا کے تمام ظالم حکمرانوں کے لیے واضح تنبیہ ہے اور جماعت اسلامی مظلوموں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور بنگلہ دیش کی ترقی، خوش حالی اور اسلامی تشخص کے استحکام کے لیے دعا گو ہیں۔

واضح رہے کہ انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میںعدالت نے آج سابق وزیراعظم بنگلادیش شیخ حسینہ واجد کو سزائے موت سنا دی ۔

جسٹس غلام مرتضیٰ موجمدار کی سربراہی میں انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل کے تین رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا۔ ٹریبونل کے دیگر 2 ارکان میں جسٹس شفیع العالم محمود اور جج محیط الحق انعام چوہدری شامل ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلادیش کی مقامی جنگی جرائم کی عدالت انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے فیصلہ سنایا۔

عدالت نے شیخ حسینہ واجد کے خلاف مقدمات کا 453 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے شیخ حسینہ واجد کو سزائے موت کا حکم سنایا۔

Scroll to Top