اسموگ سے بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ، قومی ادارہ صحت کا انتباہ جاری

اسلام آباد: قومی ادارہ صحت نے اسموگ کے بڑھتے ہوئے اثرات کے حوالے سے عوام کو انتباہ جاری کیا ہے ۔

ادارے کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی اور سرد موسم کے ملاپ سے نمونیا اور دیگر سانس کی بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

جاری ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ فضائی آلودگی سے بچوں، بزرگ شہریوں اور پہلے سے بیماری میں مبتلا افراد کو زیادہ خطرہ لاحق ہے۔

ایڈوائزری میں کہا گیا ہےکہ لاہور، ملتان، گوجرانوالہ، راولپنڈی اور اسلام آباد میں اسموگ کے اثرات کے امکانات ہیں، جبکہ لاہور میں فضائی آلودگی کی سطح سب سے زیادہ ہے، جس کے باعث شہریوں کو زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

ادارے کی ہدایت کے مطابق شہری، خاص طور پر بچے، اسموگ والے علاقوں میں زیادہ دیر باہر نہ رہیں اور جہاں ضرورت ہو وہاں ماسک استعمال کریں۔

ہیلتھ اتھارٹیز اور ماہرین کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری اقدامات کریں اور اسموگ کے اثرات کم کرنے کے لیے ضروری تدابیر اختیار کریں۔

قومی ادارہ صحت نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ فضائی آلودگی سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ سانس کی بیماریاں پھیلنے کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں : نو عمر بچوں میں بلڈ پریشر کیوں بڑھ رہا ہے؟ ماہرین نے اہم وجوہات بتا دیں

ایک تازہ تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ پچھلے بیس سالوں کے دوران دنیا بھر کے نو عمر بچوں اور نوجوانوں میں ہائی بلڈ پریشر کی شرح تقریباً دوگنا ہو گئی ہے۔

چین کی ژی جیانگ یونیورسٹی کے محققین کی تحقیق کے مطابق سال 2000 میں لڑکوں میں 3.4 فیصد اور لڑکیوں میں 3 فیصد نو عمر افراد ہائی بلڈ پریشر کے شکار تھے، جو 2020 تک بڑھ کر بالترتیب 6.5 فیصد اور 5.8 فیصد ہو گئی۔

یہ نتائج حال ہی میں معروف میڈیکل جرنل دی لانسیٹ چائلڈ اینڈ ایڈولیسنٹ ہیلتھ میں شائع ہوئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نو عمر بچوں میں بڑھتا ہوا بلڈ پریشر دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھاتا ہے جو خاص طور پر امریکہ جیسے ممالک میں موت کی بڑی وجہ ہے۔

تاہم اچھی خبر یہ ہے کہ مناسب اسکریننگ، بروقت تشخیص اور صحت مند وزن و غذائیت پر توجہ سے اس کے اثرات کو روکا جا سکتا ہے۔

تحقیق میں ماہرین نے بتایا کہ بچوں میں ہائی بلڈ پریشر کی سب سے بڑی وجہ موٹاپا ہے، جو سوزش کے امکانات بڑھاتا ہے اور خون کی نالیوں کے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

اس کے علاوہ زیادہ نمکین اور الٹرا پروسیسڈ فوڈز، ناقص نیند اور ذہنی دباؤ بھی اس کا سبب بنتے ہیں۔

Scroll to Top