واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ بھارت دوبارہ پاکستان پر جنگ مسلط کرنے والا تھا، تاہم ان کی بروقت مداخلت نے ممکنہ تنازعہ روک دیا۔
ٹرمپ نے یہ بات سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کی۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے دنیا میں آٹھ بڑی جنگوں کو روکنے میں کردار ادا کیا ہے، اور اس ضمن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ جنگ بھی روکائی۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے تجارت اور اقتصادی بنیادوں پر کشیدگی کم کی، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک اب بہتر اقدامات کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے جلد ختم ہونے کی توقع بھی ظاہر کی اور کہا کہ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ یوکرین،روس تنازعہ اتنا طویل ہو جائے گا۔
مزید برآں امریکی صدر نے ایران سے جوہری معاہدے پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس معاہدے کے لیے تیار ہے اور اس حوالے سے بات چیت کا آغاز ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : بجلی صارفین کے لیے ایک اور خوشخبری، قیمتوں میں کمی کا امکان
جبکہ دوسری جانب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ابراہم معاہدے کا حصہ بننے میں دلچسپی رکھتا ہے، تاہم اس کے لیے فلسطین کے دو ریاستی حل کی ضمانت ناگزیر ہے۔
وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان مشترکہ میڈیا گفتگو میں دوطرفہ تعلقات، خطے میں امن کی کوششیں، دفاعی تعاون اور سرمایہ کاری کے مستقبل پر اہم اعلانات کیے گئے۔
صدر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کو خوش آمدید کہتے ہوئے انہیں مستقبل کا بادشاہ قرار دیا اور کہا کہ محمد بن سلمان ایک بہترین اور قابلِ اعتماد رہنما ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد ان کے قریبی دوست ہیں اور انسانی حقوق سمیت مختلف شعبوں میں انہوں نے قابلِ ذکر کام کیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے شاہ سلمان کے لیے بھی گہرا احترام ظاہر کیا۔
ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کا اہم معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت سعودی عرب جدید ایف-35 لڑاکا طیارے خرید سکے گا۔ مزید برآں سعودی درخواست پر امریکا شام پر عائد پابندیاں ہٹانے کا عمل شروع کر رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد انہوں نے امریکا میں 21 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کی، اور سعودی تعاون سے مزید ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور: شدید دھند کے باعث موٹروے ایم-1 پشاور سے رشکئی تک عارضی طور پر بند
امریکا کے تیل ذخائر دوبارہ تعمیر کیے جا رہے ہیں اور سعودی سرمایہ کاری، کمپیوٹنگ، چِپس اور سیمی کنڈکٹرز کے شعبوں میں مستقبل کے اہم مواقع پیدا کرے گی۔
سعودی ولی عہد نے بتایا کہ وہ امریکا کے ساتھ مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو مستقبل کے لیے اہم سمجھتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے سعودی سرمایہ کاری کو قابلِ قدر قرار دیا اور کہا کہ تعاون کے مزید مواقع سامنے آ رہے ہیں۔
محمد بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب ابراہم معاہدے کا حصہ بننے میں دلچسپی رکھتا ہے، مگر فلسطین کے دو ریاستی حل تک پہنچنا لازمی ہے۔ انہوں نے خطے میں امن کے امکانات پر صدر ٹرمپ کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی، جسے دونوں ممالک خطے کے استحکام کے لیے اہم سمجھتے ہیں۔





