وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفر یدی کو منصب سنبھالے ایک ماہ مکمل ہوگیا ہے، اور اس دوران انہوں نے سیاسی، انتظامی اور عوامی سطح پر اپنی سرگرمیوں سے واضح نقوش چھوڑے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان نے علی امین گنڈاپور کو ہٹا کر سہیل آفر یدی کو وزیراعلیٰ نامزد کیا تھا، جس پر وفاق کی جانب سے ابتدا میں سخت مخالفت دیکھی گئی۔ طویل تاخیر اور رکاوٹوں کے بعد آفر یدی نے 15 اکتوبر کو گورنر ہاؤس پشاور میں حلف اٹھایا۔
وزیراعلیٰ بننے کے فوراً بعد سہیل آفر یدی نے عمران خان سے ملاقات کرکے کابینہ سازی اور حکومتی امور پر مشاورت کا اعلان کیا، تاہم کئی بار کوشش کے باوجود یہ ملاقات نہ ہو سکی، جس پر وہ عدالت بھی گئے۔ بالآخر انہوں نے کابینہ تشکیل دی، جس میں زیادہ تر وہی چہرے شامل ہیں جو علی امین اور محمود خان کے دور میں موجود تھے۔سہیل آفر یدی نے صوبے میں جاری آپریشنز روکنے کا مطالبہ کیا اور ایکشن اِن ایڈ آف سول پاور آرڈیننس کو ختم کرنے کی منظوری دی۔ اس فیصلے کے تحت صوبائی حکومت نے سپریم کورٹ میں دائر کیس واپس لے کر آرڈیننس کے خاتمے کو حتمی شکل دی۔
صوبے میں امن و امان بہتر بنانے کے لیے وزیراعلیٰ نے تمام سیاسی جماعتوں کو یکجا کیا۔ صوبائی اسمبلی میں امن جرگے کا انعقاد کیا گیا، جس میں سیاسی جماعتوں اور مختلف شعبوں کے نمائندوں نے شرکت کی اور متفقہ اعلامیہ جاری کیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت اور اپوزیشن نے دہشت گردی کی روک تھام کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر بات کی، اور سہیل آفر یدی نے روایات کی پاسداری کرتے ہوئے معاملہ سنجیدگی سے حل کیا۔
وزیراعلیٰ سہیل آفر یدی نے صوبے میں عوامی رابطہ مہم کو ترجیح دی اور چارسدہ، خیبر اور کرک میں عوامی جلسے کیے۔ قریبی ذرائع کے مطابق وہ زیادہ تر وزیراعلیٰ ہاؤس کے بجائے فیلڈ میں موجود رہتے ہیں اور عوام اور پارٹی کارکنان سے براہ راست رابطے میں ہیں۔انہوں نے خیبر ٹیچنگ اسپتال کا اچانک دورہ کیا، مریضوں سے ملاقات کی اور صحت کارڈ کے ذریعے مفت علاج کی بندش پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے علاج دوبارہ شروع کرنے کی ہدایت دی۔ اسی طرح پشاور کے دو تھانوں کا بھی اچانک دورہ کیا، ریکارڈ چیک کیا اور زیرِ حراست ملزمان سے ملاقات کی۔
سہیل آفر یدی نے وزیراعظم کی جانب سے مبارکباد کی کال کے بعد وفاق کے ساتھ تعلقات بہتر رکھنے کا عندیہ دیا تھا، لیکن عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر ان کے موقف میں سختی پیدا ہوئی۔ پشاور میں ایک تقریب سے خطاب میں انہوں نے وفاق پر الزام لگایا کہ وہ صوبے کے بقایاجات ادا نہیں کر رہا اور عدالتی احکامات کے باوجود ملاقات نہ کرائی گئی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ تحریک اور احتجاجی مظاہروں کا آغاز کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔تجزیہ کاروں کے مطابق سہیل آفر یدی کا پہلا مہینہ سیاسی سرگرمی، عوامی رابطے اور صوبائی امور میں فعال کردار کے حوالے سے نمایاں رہا ہے، اور پارٹی کے کارکنان بھی ان کی قیادت میں دوبارہ متحرک ہوئے ہیں۔





