متحدہ عرب امارات نے بنگلہ دیش سمیت نو ممالک پر ویزوں کی پابندی عائد کر دی ہے۔ اس پابندی کا اطلاق وزٹ اور ورک ویزا پر ہوگا۔
جن ممالک پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں بنگلا دیش، یوگنڈا، سوڈان، صومالیہ، کیمرون، لیبیا، یمن، لبنان اور افغانستان شامل ہیں۔
پابندی کی وجوہات میں ان ممالک میں سیاسی عدم استحکام اور باہمی رنجشیں بھی شامل ہیں۔
امیگریشن سرکلر کے مطابق جن ممالک پر پابندی عائد کی گئی ہے، ان ممالک سے درخواستیں اگلے نوٹس تک معطل کر دی گئی ہیں جن میں کوئی نیا سیاحتی یا ورک ویزا پروسیس نہیں کیا جا رہا۔
یو اے ای حکام نے باضابطہ طور پر ویزا معطلی کے فیصلے کی وضاحت نہیں کی تاہم مبینہ طور پر سیکیورٹی خدشات اور سفارتی تناؤ کو وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ یو اے ای نے ماضی میں بھی کچھ ممالک پر اس طرح کی پابندیاں عائد کی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں : چین کا 48 ممالک کے شہریوں کو ویزا فری انٹری دینے کا اعلان
چینی حکومت نے دنیا کے 48 ممالک کے شہریوں کو بغیر ویزا کے چین میں داخلے کی سہولت دینے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہےجو ستمبر 2025 سے مؤثر ہوگا۔
اس فیصلے کا مقصد عالمی سیاحت، غیر ملکی سرمایہ کاری اور بین الاقوامی روابط کو فروغ دینا بتایا جا رہا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق اس فہرست میں پاکستان کا نام شامل نہیں ہے۔
چین کی جانب سے جاری کردہ فہرست میں زیادہ تر یورپی ممالک شامل ہیں، جن میں فرانس، جرمنی، اٹلی، اسپین، آئرلینڈ، پرتگال، نیدرلینڈز، بیلجیئم، آسٹریا، یونان، سوئٹزرلینڈ، ناروے، فن لینڈ، ڈنمارک اور دیگر شامل ہیں۔
اس کے علاوہ، مشرقی ایشیا کے جاپان، جنوبی کوریا، ملائیشیا اور برونائی کے ساتھ خلیجی ممالک سعودی عرب، کویت، بحرین اور عمان بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، اور لاطینی امریکہ کے ممالک جیسے برازیل، ارجنٹینا، چلی، پیرو اور یوراگوئے کو بھی ویزا فری انٹری دی جائے گی۔
ایک قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ روس کو بھی پہلی بار اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے جسے بیجنگ اور ماسکو کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان کے ویزا فری فہرست سے باہر رہنے پر ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ فی الوقت چین نے کوئی عندیہ نہیں دیاتاہم مستقبل میں اسلام آباد کو اس فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔





