ترجمان ینک ڈاکٹرز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا ڈاکٹر حفیظ اورکزئی نے کہاہے کہ تیمرگرہ ہسپتال کے معطل کئے جانے والے تین ڈاکٹروں نے وہاں پر صحت کارڈ میں ہونے والی کرپشن کو بے نقاب کیا تھا۔
ڈاکٹر حفیظ اورکزئی نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال تیمرگرہ کے تین ڈاکٹروں کا تبادلہ کیا جاتاہے،پھر وہ کورٹ سے ایک آرڈر جاری کرتے ہیں پھر اس کے بعد ہیلتھ سیکرٹری ان کو سسپینڈ کرتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ان کے پیچھے ہیلتھ سیکرٹری خیبرپختونخوا،تین ایم پی ایزپاکستان تحریک انصاف کے اور میڈیکل سپرٹینڈنٹ ڈی ایچ یوتیمرگرہ ڈاکٹر بخت زدہ کھڑے ہیں۔
🚨🚨خیبرپختونخوا میں کرپشن کی کہانی، صحت کارڈ کرپشن پر آواز اٹھانے والے ڈاکٹرز کو 120 دن کیلئے معطل کردیا گیا۔
ترجمان ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا ڈاکٹر حفیظ اورکزئی کے ہوشربا انکشافات@Cardio_Hafeez pic.twitter.com/h8PsujvARC— Pakhtun Digital (@PakhtunDigital) November 19, 2025
انہوں نے مذید کہاکہ وجہ یہ ہوتی ہے جب تیمرہ گرہ میڈیکل کالج کی بنیاد رکھی جاتی ہے ،ان کے لیے میڈیکل ایکوپمنٹس، فنڈ اور باقی سامان کا آرڈر دیا جاتا ہے تو اس بے ضابطگیاں آتی ہیں،پرنسپل تیمرگرہ میڈیکل کالج جب ایک سٹینڈرڈ میڈیکل کالج کی شروعات کرتے ہیں تو ڈاکٹر بخت زادہ اس پرنسپل کے خلاف جاتے ہیں، وہاں پر ان کے وجوہات کا کسی کو پتہ نہیں ہوتا کہ ایک پرنسپل کے خلاف ایک ایم ایس کیوں جارہے ہیں۔
ڈاکٹر حفیظ کا کہنا ہے کہ پرنسپل کالج ہیلتھ سیکرٹری کو ایک لیٹر بھیجتے ہیں کہ یہاں پربے ضابطگیاں ہیں اور ساتھ میں یہاں پر ہمارے میڈیکل سٹاف کو ہراساں کیا جاتا ہے لیکن اس پر ایکشن نہیں لیا جاتا پھر ایک انکوائری بٹا دی جاتی ہے اور اس انکوائری کی تین ممبرز ہوتے ہیں ،یہی وہ ڈاکٹر جن کا تبادلہ کیا گیا تھا اور پھر سسپینڈ کیا گیا ،ڈاکٹر نجیب ،ڈاکٹر رفیع اللہ اورڈاکٹر ماجد۔
یہ بھی پڑھیں : جوڈیشل افسران کے تبادلے ،خیبرپختونخوا حکومت نے بڑا اقدام اٹھا لیا
ڈاکٹر حفیظ نے کہاکہ انکوائری میں یہ چیزیں ثابت ہو جاتی ہیں کہ ایم ایس ڈی ایچ کیو ڈاکٹر بخت زادہ دو کروڑ 35 لاکھ صحت کارڈ کرپشن میں ملوث ہے ،دو نمبر ادویات دی جاتی ہیں، تھرڈ کلاس سرجیکل انسٹرومنٹ دیے جاتے ہیں ،لیبارٹری اور ویسٹ کے پیسے مریضوں سے زیادہ وصول کئے جاتے ہیں، ایکسرے کے پیسے زیادہ وصول کئے جاتے ہیں اور ادویات کے زیادہ پیسے وصول کیا جاتے ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ انکوائری میں سامنے آیا کہ میڈیکل سرٹیفیکیٹ جو ہمارے میڈیکل ریلیٹڈ سٹاف موجود دیے جاتے تھے اور جو فٹنس سرٹیفیکیٹ ہماری جو نان میڈیکل سٹاف کو دیئے جاتے تھے ان کے 1200 روپے وصول کیے جاتے تھے لیکن ان کا ریکارڈ ان کے پاس نہیں تھا ،فیمیل ڈاکٹروں بھی ہراساں کیا جاتا تھا اور یہ ساری چیزیں جب انکوائری میں لکھی گئی تو ایم ایس بخت زادہ ان تین ڈاکٹروں کے خلاف کھڑے ہو گئے۔
انہوں نے کہاکہ یہاں پر ایم ایس نے ایک لیٹر بھیجا ہیلتھ سیکرٹری کو ان تین ڈاکٹروں کو ٹرانسفر کیا جائے، اس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے تین ایم پی ایز کی انٹری ہو جاتی ہے ،اس کے بعد ہمارے ڈاکٹروں کو یہ سمجھ اتی ہے کہ یہ ٹیم ایم پی ایز بھی ایم ایس کے ساتھ کیوں کھڑے ہیں کیونکہ جو کرپشن ایم ایس کر رہے تھے ان میں شیئرز ان ایم پی ایز کو بھی دیا جاتا تھا ۔
انہوں نے مزید کہاکہ اس کے بعد ہیلتھ سیکرٹری نے ان تین ڈاکٹروں کو ٹرانسفر کیا تو اس کے خلاف ہمارے ڈاکٹروں نے احتجاج کی کال دی، احتجاج اپ لوگوں نے ویڈیو دیکھی بھی ہوگی کہ ایم ایس پسٹل لے کر جاتے ہیں کہ جو ڈاکٹر بھی احتجاج کا حصہ ہوں گے میں باقی ڈاکٹروں کو بھی ٹرانسفر کروں گا، بلیک میلنگ پر اتر ائے تھے اور ساتھ میں انہوں نے وہاں پر پسٹل بھی نکالی کہ میں سب کو مار دوں گا اگر کسی نے میرے کرپشن کے خلاف بات کی ۔
انہوں نے بتایاکہ اس کے بعد ہمارے ڈاکٹرز ہیلتھ سیکرٹری کے پاس جاتے ہیں، اس میں ہیلتھ سیکرٹری ایم ایس کے خلاف انکوائری کا کہہ دیتے ہیں اور اس انکوائری کے دو ممبرز ہوتے ہیں، ابراہیم ڈرگ انسپکٹر خیبرپختونخوا،ڈاکٹر قاسم میڈیکل سپرٹینڈنٹ بٹ خیلہ ہسپتال لیکن تین مہینے ہوئے آج تک وہ انکوائری نہ ہو سکی۔
ترجمان ینگ ڈاکٹرز نے بتایاکہ ڈاکٹروں نے کوٹ کا رخ کیااور کورٹ میں کیس جمع کرانے کے بعد کورٹ سے یہ آرڈر جاری ہوتا ہے کہ یہ ڈاکٹر اپنے ڈی ایچ کیو تیمر گرہ ہسپتال میں اپنی ڈیوٹی جاری رکھیں،کورٹ آرڈر کے باوجود آج ہیلتھ سیکرٹری یہ آرڈر جاری کرتے ہیں کہ میں ان تین ڈاکٹروں کو بغیر کسی پروف کے بغیر کسی ثبوت کے بغیر کسی انکوائری کے سسپینڈ کرتا ہوں اور ساتھ میںڈاکٹروں کو یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ اپ لوگ ان تین ایم پی ایز کے گھر جائیں اور ان سے معافی مانگیں ۔
انہوں نے کہاکہ معافی بلا کس چیز کی مانگی وہ صرف اس بات کے مانگیں کہ اپ لوگوں نے صحت کار ڈکرپشن کو کیوں بے نقاب کیا ،آپ لوگوں نے انکوائری میں یہ کیوں لکھا کہ یہاں پر دو نمبر دوائیاں دی جاتی ہیں، تھرڈ گلاس سرجیکل انسٹرومنٹ دیے جاتے ہیں ،مریضوں سے زیادہ پیسے وصول کیے جاتے ہیں ۔
ڈاکٹر حفیظ اورکزئی نے کہاکہ ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا اس نوٹیفیکیشن کی مذمت کرتی ہے اور اس نوٹیفکیشن کو ہم مسترد کرتے ہیں،ہمارے ڈاکٹروں نے اپنی نوٹیفکیشن میں یہ بھی لکھا تھا کہ آپ لوگ ہمارے خلاف انکوائری بٹھا دیں، اگر انکوائری میں کوئی غیرحاضری نکل آتی ہے یا مریضوں کے علاج میں کوئی کوتاہی نظر آتی ہے یا باقی کوئی بھی بے ضابطگیاں نظر آتی ہے تو آپ لوگ ہمیں کسی بھی وقت معطل کر سکتے ہیں لیکن نہ ڈاکٹروں کے خلاف کوئی انکوائری بٹھا دی جاتی ہے، بغیر کسی انکوائری کے آج ان کو معطل کیا جاتا ہے۔
ترجمان نے کہاکہ ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن جلد ایک پریس کانفرنس کرے گی اور اس میں خیبر پختونخوا میں جو جاری کرپشن ہے صحت نظام میں ،جو بے ضابطگیاں ہیں، ان کو بما ثبوت ایکسپوز کرے گی ،ہم اپیل کرتے ہیںوزیراعلی سہیل آفریدی سے کہ خدارا اس ایم ایس کے خلاف ،ڈی ایچ کیو تیمرگرہ کے خلاف انکوائری بٹا دیں تاکہ عوام کے سامنے سچ ثابت ہو جائے۔





