علیمہ خان کے پیغامات ملک میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش ہیں، رانا ثنااللہ

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے قانون و انصاف رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ دستیاب شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ علیمہ خان اپنے بھائی کے ایسے پیغامات لاتی رہی ہیں جو ملک میں انتشار اور افرا تفری پھیلانے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایسی سرگرمیوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو جیل میں رہتے ہوئے اپنا وقت جیل میں گزارنا چاہیے۔

اگر وہ جیل میں بیٹھ کر تحریک چلانا چاہتے ہیں اور ملک میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں اس کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

رانا ثنااللہ نے مزید کہا کہ قانون انتظامیہ کو اختیار دیتا ہے کہ وہ ایسے افراد کی ملاقاتوں پر پابندی لگا سکتی ہے۔ اگر انتظامیہ کا مؤقف غلط ہو تو عدالت میں اسے چیلنج کیا جا سکتا ہے اور ملاقات کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ پہلے یہ طے ہونا چاہیے کہ آیا کسی پر تشدد ہوا یا نہیں۔

دھرنا دینا کسی کا حق نہیں ہے اور انتظامیہ کو حق حاصل ہے کہ وہ ایسے افراد کو ہٹا سکے، تاہم یہ عمل مناسب اور پرامن طریقے سے ہونا چاہیے، جس میں کسی پر تشدد شامل نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں : سی ٹی ڈی کی بنوں و لکی مروت میں کامیاب کارروائی، دو انتہائی مطلوب دہشتگرد ہلاک

رانا ثنااللہ نے خواتین کے ساتھ تشدد کے واقعات کی بھی مذمت کی اور کہا کہ کسی صورت خواتین پر تشدد کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ موقع پر موجود افراد سے ان کا موقف جاننا بھی ضروری ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ اس نوعیت کے معاملات کو تشدد کے بغیر حل کیا جانا چاہیے اور موجودہ صورتحال کا حتمی فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ کرے گی۔

Scroll to Top