شیراز احمد شیرازی
اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبرپختونخوا کے وزیر سہیل آفریدی کے بیانات کا نوٹس لے لیا ہے، جو انہوں نے حویلیاں میں جلسے کے دوران سرکاری ملازمین کے خلاف دیے تھے۔
ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے آج دن ساڑھے گیارہ بجے اہم اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں سہیل آفریدی کے بیانات کا بغور جائزہ لیا جائے گا۔
اجلاس میں یہ تعین کیا جائے گا کہ آیا ان کے بیانات کسی آئینی یا قانونی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہیں یا نہیں۔
سہیل آفریدی نے حویلیاں جلسے میں کہا تھا کہ سرکاری ملازمین کے رویے اور عمل سے متعلق بیان بازی کی گئی، جس پر الیکشن کمیشن نے فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کے لیے اجلاس طلب کر لیا۔
ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے بیان پر نوٹس حویلیاں جلسے میں سرکاری ملازمین سے متعلق دھمکی آمیز الفاظ استعمال کرنے پر لیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز ہری پور میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مقبول لیڈر عمران خان اور ان کی اہلیہ جیل میں ہے، اڈیالہ جیل کے باہر بانی پی ٹی آئی کی بہنوں پر مبینہ تشدد کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں صحت کارڈ میں کرپشن، پی ٹی آئی ممبران اسمبلی کے ملوث ہونے کا انکشاف
اُنہوں نے کہا کہ قائد تحریک انصاف اپنے اہلخانہ سمیت ملک کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں، 23 نومبرکو ہونے والے ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کو ووٹ دیں۔
انہوں نے کہاکہ اگر انتظامیہ یا پولیس نے دھاندلی کی کوشش کی تو انجام اچھا نہیں ہوگا، انتخابی نتائج تبدیل کیے گئے تو حالات سنگین ہوں گے، پاکستان میں بہت جلد کچھ بڑا ہونے والا ہے۔
پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدرجنید اکبر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی مذمت کرتے ہیں، ہری پور سے اسلام آباد اور ڈونگا گلی سے مری جانے والا پانی بند کرکے وفاق کے ساتھ کھلی جنگ کا آغاز ہونا چاہیے۔





