اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا میں سٹون کرشنگ یونٹس کے حوالے سے دائر درخواست پر سماعت مکمل کرنے کے بعد کیس نمٹا دیا ہے اور حتمی حکم نامہ بعد میں جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، جس میں درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ سٹون کرشنگ یونٹس کو فوری طور پر کھولنے کی اجازت نہ دی جائے اور پہلے مالکان متعلقہ صوبائی اداروں کو قواعد و ضوابط کے مطابق مطمئن کریں۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ صوبائی حکومت کے اصول و ضوابط کے مطابق شہروں میں سٹون کرشنگ یونٹس کے لیے کم از کم 500 میٹر اور دیہی علاقوں میں 300 میٹر فاصلہ مقرر ہے، لیکن بعض دیہی علاقوں میں یہ یونٹس صرف 60 میٹر کے فاصلے پر کام کر رہے ہیں، جو قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے بیان کا نوٹس لے لیا
چیف جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ عدالت کا کام صرف حکومتی پالیسی پر عمل درآمد کرانا نہیں ہے بلکہ متعلقہ اداروں کو ہدایات دینے کی اجازت عدالت کے دائرہ اختیار میں شامل ہے۔
عدالت نے کیس کی سماعت مکمل کرنے کے بعد درخواست کو نمٹا دیا اور حتمی حکم نامہ جاری کرنے کا فیصلہ محفوظ کر لیا، جس سے متعلق تفصیلات بعد میں فراہم کی جائیں گی۔





