اُردو کے عہد ساز شاعر فیض احمد فیض کو دنیا چھوڑے 41 برس بیت گئے

اسلام آباد: ترقی پسند شاعر انسانی حقوق کے علمبردار اور اردو ادب کے عہد ساز فیض احمد فیض کی آج 41 ویں برسی منائی جا رہی ہے۔

فیض احمد فیض نے اپنی شاعری کے ذریعے محبت، انقلاب، اور انسانی حقوق کے پیغام کو عام کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا اور ان کی انقلابی سوچ آج بھی قارئین کے دلوں میں زندہ ہے۔

فیض احمد فیض 13 فروری 1911 کو پنجاب کے ضلع نارووال میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے نہ صرف اردو شاعری میں نمایاں مقام حاصل کیا بلکہ نثر کے میدان میں بھی اپنی چھاپ چھوڑیں۔

ان کے مشہور کلامی مجموعے جیسے نقش فریادی، دست صبا، زنداں نامہ، دست تہ سنگ، سروادی سینا، شام شہریاراں اور میرے دل میرے مسافر آج بھی ادب کے طلبہ اور شائقین کے لیے مشعل راہ ہیں۔

نثر میں بھی فیض احمد فیض نے یادگار کام کیے، جن میں میزان، صلیبیں مرے دریچے میں، متاع لوح و قلم، ہماری قومی ثقافت اور ماہ و سال آشنائی شامل ہیں۔

ان کی خدمات کو بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا اور 1962 میں سوویت یونین کی جانب سے انہیں لینن امن ایوارڈ سے نوازا گیا، جو ایشیا میں کسی شاعر کو دی جانے والی پہلی عزت تھی۔

یہ بھی پڑھیں : پاک و انڈونیشیا کی مشترکہ فوجی مشق ’’شاہین اسٹرائیک ٹو’’اختتام پذیر، آئی ایس پی آر

فیض احمد فیض کا انتقال 20 نومبر 1984 کو 73 سال کی عمر میں ہوا اور وہ لاہور میں آسودۂ خاک ہیں۔

آج بھی پاکستان سمیت دنیا بھر میں ان کے کلام کی محفلیں سجائی جاتی ہیں اور ان کے اشعار نوجوان نسل کے لیے تحریک کا ذریعہ ہیں۔

ماہرین ادب کا کہنا ہے کہ فیض احمد فیض کی شاعری آج بھی معاشرتی انصاف، انسانی حقوق اور محبت کے جذبے کو فروغ دینے کا اہم ذریعہ ہے، اور ان کی برسی کے موقع پر مختلف تقریبات اور یادگار پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں۔

Scroll to Top