اسلام آباد: وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت خیبرپختونخوا ہاؤس میں ایک غیر معمولی اور ہنگامی پارلیمانی اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں اسپیکر بابر سلیم سواتی، صوبائی صدر جنید اکبر خان، صوبائی جنرل سیکرٹری علی اصغر خان، صوبائی وزراء، مشیران، معاونین خصوصی اور اراکین اسمبلی نے شرکت کی۔
اجلاس میں گزشتہ رات آڈیالہ جیل کے باہر پیش آنے والے واقعات، ملک میں سیاسی ابتری، 27ویں آئینی ترمیم اور دیگر سنگین سیاسی و آئینی مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں پارلیمانی کمیٹی نے کئی اہم فیصلے کیے:
1. عمران خان کی بہنوں، صوبائی وزیر مینا خان، رکنِ قومی اسمبلی شاہد خٹک اور رکنِ صوبائی اسمبلی عبدالسلام پر ریاستی تشدد اور ہراسانی کی شدید مذمت کی گئی، جسے سیاسی انتقام اور آئینی انحراف قرار دیا گیا۔
2. جمعہ کے روز خیبرپختونخوا کے تمام حلقوں میں 27ویں آئینی ترمیم اور وفاقی و پنجاب حکومت کے اقدامات کے خلاف احتجاج کی کال دی گئی۔
3. صوبائی حکومت اور اراکین اسمبلی کی تذلیل کو کسی بھی صورت برداشت نہ کرنے کا اعلان کیا گیا اور آئینی و سیاسی ردعمل کے حقوق محفوظ قرار دیے گئے۔
4. وفاقی اور پنجاب حکومت کے اقدامات کو متعصبانہ، غیر آئینی اور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا عندیہ دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے بیان کا نوٹس لے لیا
5. چیئرمین عمران خان کی بہنیں غیر سیاسی اور غیر جانبدار ہیں، اور ان کے ساتھ کیے جانے والے غیر انسانی رویے کو شرمناک اور ناقابلِ معافی قرار دیا گیا۔
6. صوبائی حکومت، وزراء، پارلیمنٹیرینز اور عوام اپنے قائد اور منتخب نمائندوں کے ساتھ کھڑی رہیں گی اور کسی بھی دباؤ یا دھمکی کے آگے سر نہیں جھکائیں گی۔
وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے اجلاس کے اختتام پر کہا کہ صوبائی قیادت اور عوام اپنے حقوق اور قائد کے ساتھ مکمل طور پر یکسو ہیں اور آئندہ کسی بھی غیر آئینی اقدام کے خلاف بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔





