پشاور میں خواجہ سراؤں کے مرکز اقبال پلازہ کے باہر ناکے لگانے کا فیصلہ، سی سی پی او کا حکم

پشاور: سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید نے پشاور میں جرائم کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر کا اقبال پلازہ سنیچرز، منشیات فروشوں اور جرائم پیشہ افراد کا مرکز بن چکا ہے۔

اگر پلازہ کے اندر پولیس کی کارروائی میں مشکلات آئیں تو قانون نافذ کرنے کے لیے باہر ناکے لگائے جائیں گے۔

ڈاکٹر میاں سعید نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ کوئی بھی خاتون اگر جرم کرتی ہے اور یہ کہتی ہے کہ اس کے ساتھ نرمی برتی جائے کیونکہ وہ خاتون ہے یا اس کے لیے کوئی خاص رعایت ہوگی، تو یہ بالکل قابل قبول نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ٹرانسجینڈر افراد کے لیے بھی مواقع کھلے ہیں، اگر وہ صحیح اور قانونی کام کریں، تو یہاں تک کہ پولیس میں بھی نوکری کر سکتے ہیں، لیکن اگر وہ غلط کام کریں تو مرد یا خواتین کو چھوڑا نہیں جائے گا، اور ان کے لیے بھی رعایت نہیں ہوگی۔

سی سی پی او نے مزید کہا کہ جرائم پیشہ شخص کی کوئی جنس نہیں ہوتی، اس معاملے میں کسی قسم کا کمپرومائز یا رعایت نہیں کی جائے گی، اور قانون کا مکمل نفاذ یقینی بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کی ٹیم نے بھرپور محنت کی ہے اور علاقے میں بہتری اور مثبت تبدیلی لانے کی کوشش جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں : رات گئے پختونخوا ہاوس اسلام آباد میں ہنگامی اجلاس، اہم فیصلے سامنے آگئے

ڈاکٹر میاں سعید نے اسلحہ کے غلط استعمال پر بھی شدید موقف اپناتے ہوئے کہا کہ پلوسہ میں فائرنگ کے واقعے پر فوری کارروائی کی گئی، اور برآمد شدہ اسلحہ میں چار لائسنس یافتہ تھے۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا لائسنس ہونے کے باوجود فائرنگ کرنا جائز ہے؟ اسی طرح لائسنس یافتہ اسلحہ لے کر گاڑی میں بیٹھنا اور گن مین کی طرح گھومنا بھی کسی مہذب معاشرے میں قبول نہیں ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے میں کسی کو بھی معاف نہیں کیا جائے گا، کسی کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا اور قانون سب پر یکساں لاگو ہوگا۔

Scroll to Top