پاک افغان سرحد کی بندش 40 روز مکمل، تجارتی اور سفری سرگرمیاں معطل، گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں

پاک افغان سرحد کی بندش 40 روز مکمل، تجارتی اور سفری سرگرمیاں معطل، گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں

چمن، طورخم، غلام خان، انگور اڈا اور خرلاچی بارڈرز پر تجارتی اور سفری سرگرمیاں معطل، کارگو گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں 

تفصیلات کے مطابق پاک افغان سرحد کی بندش کے باعث چمن، طورخم، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور ضلع کرم میں اہم بارڈرز پر تجارتی اور سفری سرگرمیاں مکمل طور پر معطل ہو چکی ہیں۔ چمن میں واقع باب دوستی، خیبر میں طورخم، شمالی وزیرستان میں غلام خان، جنوبی وزیرستان میں انگور اڈا اور کرم میں خرلاچی بارڈر 40 روز سے بند ہیں

چمن میں باب دوستی کے ذریعے ہر قسم کی تجارت اور ویزا ٹریولنگ بند ہونے سے مقامی اور بین الاقوامی تجارتی سرگرمی متاثر ہو رہی ہیں۔ لیویز حکام کے مطابق سندھ، پنجاب اور بلوچستان میں مقیم غیر قانونی افغان باشندوں کا باب دوستی کے ذریعے انخلا جاری ہے، تاہم تجارتی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل ہیں۔

طورخم میں تجارتی گزرگاہ بند ہونے کے باعث کارگو گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں اور مال بردار گاڑیوں کی نقل و حمل متاثر ہو گئی ہے۔ شمالی وزیرستان میں غلام خان بارڈر، جنوبی وزیرستان میں انگور اڈا اور کرم میں خرلاچی بارڈر کی بندش کے باعث دونوں ممالک کے درمیان مال برداری اور مسافروں کی آمد و رفت رک گئی ہے۔

لیویز حکام نے بتایا کہ سرحدی بندش کا اثر نہ صرف تجارتی سرگرمیوں پر پڑ رہا ہے بلکہ مسافروں اور کاروباری افراد کی مشکلات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ سرحد کے بند ہونے سے سامان کی ترسیل میں تاخیر، مال برداری کے اخراجات میں اضافہ اور کارگو گاڑیوں کی لمبی قطاریں روزمرہ کا معمول بن گئی ہیں۔

سرحدی بندش کی وجہ سے تجارتی معیشت متاثر ہونے کے علاوہ مسافروں کے لیے ویزا اور دیگر سفری سہولیات بھی معطل ہیں، جس سے سرحدی علاقوں میں شدید مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور سرحد کھولنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : مختلف علاقوں میں پولیس کے سرچ آپریشنز کے دوران 38 غیر

Scroll to Top