ہری پور ضمنی انتخاب، الیکشن کمیشن نے پاک فوج کی تعیناتی کی درخواست کر دی ،وزیراعلیٰ کے حالیہ بیانات پر تشویش، انتخابی عملے کے تحفظ کیلئے تین اہم مراسلے جاری۔
تفصیلات کے مطابق ہری پور این اے 18 کے ضمنی انتخابات کے دوران امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے پاک فوج کو طلب کرنے کی درخواست کر دی ہے۔ الیکشن کمیشن نے 23 نومبر کو ہونے والی پولنگ کے دوران فوج اور سویلین آرمڈ فورسز کی تعیناتی مانگ لی ہے، تاکہ ووٹرز، پولنگ اسٹاف اور انتخابی عمل کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
الیکشن کمیشن نے پاک فوج کی تعیناتی کے لیے سیکریٹری دفاع کو باضابطہ خط لکھا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ انتخابی ماحول میں کشیدگی بڑھنے کے باعث فوج کی موجودگی ناگزیر ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ الیکشن کمیشن نے وفاقی سیکریٹری داخلہ اور چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا کو بھی الگ مراسلے جاری کیے ہیں، جن میں پولنگ ڈے پر مکمل امن و امان یقینی بنانے کی ہدایات شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی تقریر پر الیکشن کمیشن کی تشویش
الیکشن کمیشن حکام کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی حویلیاں جلسے میں کی گئی اشتعال انگیز تقریر نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ انتخابی افسران اور انتظامیہ کے لیے خوف و ہراس کی صورتحال پیدا کی۔ مراسلے کے مطابق:
وزیراعلیٰ کی جارحانہ زبان سرکاری افسران کو دھمکانے کے مترادف تھی
بیانات کے باعث انتخابی عملے کے فرائض میں رکاوٹ کا اندیشہ پیدا ہوگیا
انتخابی افسران اور عوام کی جان و مال کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں
ان وجوہات کی بنیاد پر الیکشن کمیشن نے ہنگامی اقدامات اٹھاتے ہوئے فوج کی تعیناتی کی سفارش کی ہے، تاکہ انتخابی ماحول پرامن رہے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
وفاقی حکومت سے فوری ایکشن کی درخواست
الیکشن کمیشن نے وفاقی حکومت کو واضح ہدایات دیں ہیں کہ 23 نومبر کے ضمنی انتخابات کے دوران:
ہر پولنگ اسٹیشن پر سخت سیکیورٹی
مکمل امن و امان
انتخابی عملے اور ووٹرز کا تحفظ
کسی بھی دباؤ، دھمکی یا مداخلت سے پاک انتخابی ماحول کو یقینی بنایا جائے
این اے 18 ہری پور کے ضمنی انتخابات میں سیاسی کشیدگی بڑھتی جارہی ہے، ایسے میں الیکشن کمیشن کا یہ اقدام انتخابی شفافیت اور سیکیورٹی کو یقینی بنانے کی ایک بڑی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔





