وفاقی محصولات کی تقسیم میں عدم توازن! پنجاب لاڈلہ، باقی صوبے محروم ،مزمل اسلم کا بڑا الزام

مشیر خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم نے کہا ہے کہ پنجاب لاڈلہ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان محروم، صوبوں کے درمیان مالی ناہمواری اور ترقیاتی عدم توازن کی خطرناک صورتحال ہے ۔

تفصیلات کے مطابق مشیر خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم نے وفاق کی جانب سے صوبوں کو ملنے والے محصولات کی تقسیم پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے غیر متوازن قرار دیا ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ وفاقی محصولات کی تقسیم میں پنجاب کو خاص ترجیح دی جا رہی ہے، جبکہ دیگر صوبے نسبتاً کم حصے کے مستحق ٹھہرائے گئے ہیں۔

مزمل اسلم نے اپنے بیان میں کہا کہ پچھلے سال کے مقابلے میں پنجاب کو محصولات میں 16 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ انصاف کا تقاضا ہے کہ باقی صوبوں کو بھی مساوی شرح سے اضافی محصولات فراہم کیے جائیں۔ ان کے مطابق، پنجاب کو 882 ارب روپے جاری کیے گئے، جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 16 فیصد زیادہ ہیں۔ سندھ کو 441 ارب روپے ملے جو 13 فیصد اضافے کے مترادف ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا کو 287 ارب روپے ملے جو 12 فیصد اضافے کے ساتھ ہیں۔ بلوچستان کو وفاق کی جانب سے صرف 164 ارب روپے فراہم کیے گئے، جو کہ صرف 5 فیصد اضافے کے برابر ہیں۔

مزمل اسلم نے مزید کہا کہ دہشت گردی اور پسماندگی کے شکار صوبوں، خاص طور پر خیبرپختونخوا اور بلوچستان، کے لیے فنڈز میں اضافہ ناگزیر ہے، لیکن افسوس کہ وفاق کی جانب سے پنجاب حکومت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی غیر متوازن تقسیم نہ صرف صوبوں کے درمیان مالی ناہمواری کو بڑھاتی ہے بلکہ ملک میں ترقیاتی عدم توازن کے مسائل کو بھی مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔

مزمل اسلم نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ صوبوں کو انصاف کے تقاضے کے مطابق فنڈز کی تقسیم کی جائے تاکہ تمام صوبے یکساں ترقی اور معاشی استحکام کی طرف بڑھ سکیں۔

یہ بھی پڑھیں : وزیراعلیٰ کے بیان کو سیاق و سباق سے الگ کر کے پیش کرنا غلط فہمی

Scroll to Top