خیبرپختونخوا غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے موزوں خطہ ہے، صدرسرحد چیمبر آف کامرس

پشاور(اعجاز احمد آفریدی)سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدرجنید الطاف نے پاک امریکہ باہمی تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کیلئے ویزا کے عمل کو آسان بنانے، جوائنٹ ونچر اور مشترکہ میکنزم ترتیب دینے پر زور دیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں تعینات امریکن قونصل جنرل ٹام ایکرٹ کے دورہ سرحد چیمبر کے موقع پر کیا۔

دورے کے دوران امریکن قونصل خانے کی اکنامک آفیسر کیتھلین گیبلسکو اور سینئر آفیسر شاہد خان بھی قونصل جنرل ٹام ایکرٹ کے ہمراہ تھے جبکہ اس موقع پر سرحد چیمبر کے سینئر نائب صدر محمد ندیم، وویمن چیمبر پشاور کی صدر قرۃ العین، سینئر نائب صدر زارا امتیاز، نائب صدر زرین اختر، سرحد چیمبر کے سیکرٹری جنرل مقتصد احسن اور دیگر موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں : سپریم کورٹ کا27ویں آئینی ترمیم کیخلاف ججز کی درخواست وصول کرنے سے انکار

جنید الطاف نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان موجودہ تجارتی حجم ہر ایک ملک کی حقیقی صلاحیت کی عکاسی نہیں کرتا، جسے مشترکہ منصوبے شروع کرنے، تجارتی وفود کے تبادلے، امریکی مارکیٹ تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی بہتر بنانے اور باہمی تعاون کے اقدامات سے بہتر کیا جا سکتا ہے۔

امریکن قونصل جنرل ٹام ایکرٹ کا کہنا تھا کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ باہمی تعاون اور اقتصادی و تجارتی تعلقات کو بہتر کا خواہاں ہے۔

امریکن سفارتکار نے مزید کہا کہ ہماری ترجیحات اور اہداف یکجا اور کافی ہم آہنگی پائے جاتے ہیں۔ ہم پاکستان کے ساتھ باہمی تجارتی حجم کو مزید بہتر بنانے کیلئے کاروبار اور تجارت کے مواقع تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہوں نے مشترکہ مقاصد سے مساوی فوائد حاصل کرنے کیلئے سرحد چیمبر کے ساتھ طویل مدتی تعاون بڑھانے کی آمادگی کا اظہار کیا۔

ایکرٹ نے کہا کہ امریکی قونصل خانہ تجارتی تعلقات کو مستحکم کرنے کیلئے کاروباری برادری کے ساتھ مضبوط روابط اور فعال انٹرایکشن کیلئے مؤثر و عملی اقدامات اور بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔

سرحد چیمبر کے صدر نے کہا کہ خیبرپختونخوا / پشاور افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کیلئے گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا غیر ملکی سرمایہ کاروں کیلئے سب سے موزوں اور منافع بخش جگہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاک امریکہ باہمی تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو وسعت دینے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں تیل، گیس، کان کنی، جیمز و جیولری، ماربل، ادویات، شہد، باغبانی، سیاحت اور دیگر اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع و نادر مواقع موجود ہیں۔

ٹام ایکرٹ نے امریکہ اور پاکستان کے درمیان باہمی تجارت اور برآمدات میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے مربوط کوششوں اور مشترکہ اقدامات پر زور دیا۔

سفارتکار نے کہا کہ مضبوط روابط کا قیام، ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی اور تجربات و معلومات کے تبادلے اور استعداد کار میں اضافہ سب سے اہم ہیں جو کاروباری برادری کو درپیش بہت سے مسائل کو حل کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

ایکرٹ نے کہا کہ پاک امریکہ باہمی تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو مشترکہ اقدامات اور کوششوں سے مزید مستحکم و مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

صدر جنید الطاف نے اس موقع پر این او سی، سرحدی مسائل پر روشنی ڈالی اور کہا کہ سرحد چیمبر حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر سرمایہ کاروں کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے اور امن و استحکام کے قیام کے لیے ہر کوشش کی حمایت کر رہا ہے۔

سرحد چیمبر کے صدر نے کاروبار کرنے میں آسانی، تجارت اور برآمدات کے فروغ اور ملک میں کاروبار کے لیے سازگار ماحول کے قیام کے لیے اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے اقدامات کو سراہا۔

سفارتکار نے سرحد کی بندش کی وجہ سے تاجروں کی مشکلات کا اعتراف کیا اور کہا کہ اس اقدام سے مہنگائی کے شدید اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

انہوں نے خیبرپختونخوا میں آئی ٹی، اے آئی، ہیومن ریسورس ڈیویلپمنٹ، لیڈرشپ اور کیپسٹی بلڈنگ اور پروڈکٹ انٹرنیشنل سرٹیفکیشن وغیرہ میں باہمی تعاون پر زور دیا۔

Scroll to Top